ابنا: محمدمرسی،نے تقریباپانچ ملین سات لاکھ ووٹ حاصل کرکےاوراحمدشفیق نے، پانچ ملین پانچ لاکھ ووٹ حاصل کرکے دوسرےمرحلےمیں پہنچ گئےہيں۔ ان دونوں کےبعد قومی امیدوارحمدبن صباحی، آزاد اسلام پسندامیدوارعبدالمنعم ابوالفتوح اورعرب لیگ کےسابق جنرل سکریٹری عمروموسی بالترتیب تیسرےسےپانچویں نمبرپرہيں۔مصرکےانتخابی قوانین کےمطابق اگرکوئی بھی امیدوارمکمل اکثریت یعنی اکاون فیصدووٹ حاصل نہیں کرپائےگاتو پھران دوامیدواروں کےدرمیان مقابلہ ہوگاجنھیں سب سےزیادہ ووٹ حاصل ہوئےہیں۔مصرکےصدارتی انتخابات کادوسرامرحلہ سولہ اورسترہ جون کومنعقد ہوگا۔ ان انتخابات میں اسلام پسندامیدوارمحمدمرسی اورسابق وزیراعظم احمدشفیق کےدرمیان مقابلہ ہوگا۔لیکن اہم نکتہ یہ ہےکہ آخرکوئی بھی امیدوارمکمل اکثریت کیوں نہيں حاصل کرسکا اوراحمدشفیق کےدوسرےمرحلےتک پہنچنےکی وجہ کیاتھی ؟ کیاانتخابات پوری طرح شفاف ہوئےہيں یاایسےخفیہ ہاتھ تھےجوانتخابات کےنتائج کواپنی مرضی کےمطابق چاہتےتھے۔چونکہ صدارتی انتخابات میں کئی اسلام پسندمیدان میں تھےاس لئےمرسی مکمل اکثرحاصل نہیں کرسکے کیونکہ عوام کےووٹ چاراسلام پسندامیدواروں میں تقسیم ہوگئے اوریہ اسلام پسندوں کےلئےایک منفی نکتہ تھالیکن احمدشفیق کےاتنےآگےتک پہنچنےکی بعض داخلی اوربیرونی وجوہات ہیں۔مصر پرحکمراں فوجی ٹولہ جوسیاسی میدان سےغائب ہونے سےخوف زدہ ہے ایک عرصےسےسعودی عرب اورمغرب کےساتھ مل کرقوم پرست اورسابق حکومت کےامیدوار کےلئےکام کررہاتھا۔اس بیچ مصرکےوہابی ٹولےنے جس پرعمروموسی تکیہ کئےہوئےتھے انتخابات کابائیکاٹ کردیاجس کافائدہ احمدشفیق کوپہنچا اورقبطی عیسائیوں نےاس بار احمدشفیق کوووٹ دیاجوپہلےسےہی سابق حکومت کی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک کی طرف مائل ہے۔ مصری فوج نےبھی جوخود کوسابق حکومت کامرہون منت سمجھتی ہے اپنےووٹ احمدشفیق کےکھاتےمیں ڈالے اوراس طرح احمدشفیق کومرسی کاحریف بنادیا۔ان تمام اسباب وعلل کےباوجود مصری عوام کےلئےانتخابات کےنتائج اس قدرغیرمتوقع تھےکہ انتخابات میں دھاندھلی کی افواہ زورپکڑگئی ۔ اس بیچ مصرکےفعال لوگوں نےانٹرنٹ پرکچہ ایسےدستاویزات جاری کردیئےجس میں مختلف صوبوں کےپولنگ بوتھوں پردھاندھلی سےپردہ اٹھ گیا۔ اور اس کی وجہ سےانتخابات کےصحیح وسالم ہونےکامسئلہ مشکوک ہوگیا۔بہت سےماہرین کاخیال ہےکہ اس وقت مصرکوخطرناک سازش کاسامناہے۔ ایسی سازش جس کی بنیاد سابق حکمرانوں کواقتدارمیں لانے پراستوارہے۔ اس بات کومصرکی سیاسی پارٹیاں بھی محسوس کررہی ہیں لہذا مصری اسلام پسندوں بالخصوص محمدمرسی نےعبدالمنعم ابوالفتوح، سلیم العوا، اورعبداللہ اشعل جیسےدوسرےاسلام پسندامیدواروں کاہنگامی اجلاس طلب کیاہے۔تاکہ دوسرےمرحلےکےانتخابات میں ان امیدواروں کےووٹ محمدمرسی کوملیں، مصرکی بہت سی انتہاپسندحتی خودمختاراورانقلابی جماعتوں نے مرسی کی حمایت کااعلان کردیاہے۔ اس وقت مصریوں کےاندراس بات پرتشویش ہےکہ کہیں سابق حکمراں انقلاب مصرپرقبضہ نہ کرلیں اورمصرکومبارک کےدورمیں پہنچادیں اس بات پرتشویش کی وجہ سےمصری عوام سڑکوں پرنکل آئےہيں قاھرہ کےالتحریراسکوائرپرسنیچرکےدن بھی سیکڑو انقلابیوں نےمظاہرہ کیا۔مجموعی طورپریہ کہنابےجانہ ہوگاکہ مصری عوام کے لئےیہ آزمائش کی گھڑی ہے اوریہ بھی ایک حقیقت ہےکہ مصرکےصدارتی انتخابات کادوسرامرحلہ پہلےمرحلےسےزیادہ سخت ہوگاکیونکہ دوسرےدورکےصدارتی انتخابات، انقلابیوں اورسابق حکومت نیزمبارک سےوابستہ لوگوں کامیدان کارزارہوگا۔....... /169
26 مئی 2012 - 19:30
News ID: 318068
مصری فرعون حسنی مبارک کےاقتدارکاشیرازہ بکھرنےکےبعد مصرمیں ہونےوالےپہلےصدارتی انتخابات کےووٹوں کی گنتی سےپتہ چلتاہےکہ انصاف وآزادی پارٹی کےاسلام پسندامیدوارمحمدمرسی اورسابق حکومت کےوزیراعظم احمدشفیق انتخابات کےدوسرےمرحلےمیں پہنچنےمیں کامیاب ہوگئےہيں۔