ابنا: اس سلسلےمیں صہیونی اخباریدیعوت احارنوت نےرپورٹ دی ہےکہ امریکی کانگریس، اسرائیل کوفوجی امداد دینے کےقانون کاجائزہ لےرہی ہےاس قانون کےتحت امریکہ، اسرائیل کوجدیدترین فوجی اسلحےاورمالی مدد فراہم کرےگاجبکہ صہیونی ریاست ایک عرصےسے امریکی حکومت سےسالانہ اربوں ڈالرمدد حاصل کررہی ہے۔
صہیونی ریاست کو امریکہ کی بڑےپیمانےپرمالی مدد ایسےحالت میں جاری ہےکہ امریکی شہری معاشی بدحالی کاشکارہیں اورامریکہ میں گذشتہ کئی مہینوں سےہونےوالے احتجاجی مظاہرےاس حقیقت کاغماز ہیں۔
اس بناپر صہیونی ریاست کوامریکی مدد پراس ملک کےعوام بارہااحتجاج کرتےرہے ہيں۔ اورامریکی عوام اس بات سےسخت نالاں ہیں کہ ان کاملک عالمی سطح پر صہیونی ریاست کاشریک جرم سمجھاجاتاہے اورامریکہ میں گذشتہ مہینوں کےدوران ہونےوالےکئی مظاہرےاس حقیقت کاثبوت ہیں۔
لیکن امریکی حکام صہیونی ریاست کی حمایت کےخلاف بڑھتےہوئےمظاہروں پرکوئي توجہ دیےبغیراس حکومت کی حمایت اورمدد کاسلسلہ جاری رکھےہوئےہيں اور اس تناظرمیں امریکی کانگریس، صہیونی ریاست کی ہمہ گیرحمایت ومدد کوبڑھانےکےمقصد سےنئےقوانین کاجائزہ لےرہی ہے۔
نئےقانون کی بنیاد پر امریکہ اپنی ان خفیہ اطلاعات کوبھی صہیونی ریاست کوفراہم کرےگا جووہ سیٹ لائٹ سےحاصل کررہاہے۔
اس کےعلاوہ امریکہ ، جدید ترین ہتھیاردینےکےتناظرمیں ایف پینتیس جنگی طیارے صہیونی ریاست کودےگااوراپنےہتھیاروں کاایک بڑا حصہ عراق سے اسرائیل بھیجےگا۔روزنامہ یدیعوت احارنوت نےلکھاہےکہ یہ قانون تمام ریپبلکن اورڈیموکریٹ کےاتفاق رائےسےہی منظور ہوگا۔
امریکی کانگریس کےاندر تمام تر اختلاف نظرکےباوجود سارےامریکی حکام صہیونی ریاست کی امداد بڑھانےپرتاکیدکررہےہيں جس نےامریکہ میں صہیونی لابی کےاثرورسوخ کونمایاں کردیاہے۔
امریکی ایوان اقتدارمیں صہیونی لابی کارخنہ اس بات کاسبب بناہےکہ امریکی حکام عالمی سطح پربھی صہیونی مقاصدکوآگےبڑھارہےہيں۔
صہیونی ریاست کےساتھ امریکی حکومت کابڑےپیمانےپرتعاون اس حقیقت کاغمازہےکہ مشرق وسطی کی قوموں کےخلاف امریکی جرائم صرف جنگ افروزی، مداخلت پسندی اورعلاقےمیں براہ راست موجودگی تک ہی محدودنہيں بلکہ امریکی حکام علاقےمیں اپنےتسلط اورسازشوں کےدوسرےحصےپر صہیونی ریاست کےذریعےعمل درآمد کررہےہيں۔
اس تناظرمیں امریکہ کی جانب سے صہیونی ریاست کو مزید فنڈ اوراسلحےکی فراہمی امریکی حکام کےایجنڈےمیں شامل ہےجبکہ امریکہ اور صہیونی ریاست کی عسکریت پسندی نےعالمی امن وسلامتی کوخطرےمیں ڈال دیاہے۔....... /169