21 مئی 2012 - 19:30

ایک عراقی مبصر نے بحرین کے الحاق کی سعودی سازش کے پس پردہ حقائق کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کا نقشہ بدلنے کی سعودی تجویز نہایت خطرناک ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے امور کے ایک عراقی ماہر و سیاستدان "ازہر الخفاجی" نے خلیج فارس کا نقشہ بدلنے کی سعودی سازش کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ آل سعود کی حکومت خلیج فارس کا جغرافیائی نقشہ بدلنا چاہتی ہے تاکہ اس طرح بحرینی عوام کو تشخص کو ختم کیا جاسکے اور بحرین میں شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے۔ الخفاجی نے ریڈیو "صوت العراق" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: آل سعود اور آل خلیفہ کے اتحاد کی تجویز کے پس پردہ چار اسباب حکم فرما ہیں جن میں پہلا سبب یہ ہے کہ سعودی خاندان بحرین میں عوام کے وسیع انقلاب کے سامنے بے بس ہوچکا ہے۔

انھوں نے سعودی سازش کے دوسرے سبب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آل سعود کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے انتہائی دقیق اور باریک بینانہ معلومات اکٹھی کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل خلیفہ حکومت عوامی ریلیوں اور مظاہروں کے مقابلے میں بے بس اور نا امید ہوچکی ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ حکومت عوام کے مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور حکومت کو عوام کے سپرد کرے۔

انھوں نے کہ آل سعود کو اندرونی طور پر بھی عوامی تحریکوں کا سامنا ہے اور سعودی حکمران سلامتی اور سیاسی کے حوالے سے شدید اور ناگہانی نقصانات سے خوفزدہ ہیں جو تیونس، مصر اور یمن میں حکومتوں کو پیش آنے والے حالات سے کسی طور پر کم نہ ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود کی اس سازش کا تیسرا سبب یہ ہے کہ وہ خلیج فارس کے مشرقی ساحل کا نقشہ بدلنا چاہتے ہیں اور بحرین کی شیعہ اکثریت کا خاتمہ کرنا چاہتے کیونکہ انہیں اردن، شام، بلوچی، پاکستانی اور عراقی آمر صدام کے فدائیوں میں سے ایک لاکھ افراد کو بحرینی شہریت دینے کے منصوبے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑآ ہے اور اب وہ بحرین کو سعودی عرب کا حصہ بنا کر اس کی آبادی کو اپنے ملک میں ضم کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سازش کا چوتھا سبب یہ ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے اور اس کو امریکہ اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی خلیفی اتحاد یا الحاق کا منصوبہ ملکہ برطانیہ کے سلامتی کے مشیر کم داروچ (Kim Darroch) نے برطانوی وزیر اعظم کے دفتر میں سعودی ولیعہد نائف بن عبدالعزيز کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کیا اور سعودی ولیعہد کو اس منصوبے پر عملدرآمد کے پر آمادہ کیا۔ جبکہ امریکیوں نے بھی دو طرفہ ملاقاتوں میں اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ .......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بحرین کا الحاق؛ سعودی برطانوی سازش ناکامی کی جانب گامزن