21 مئی 2012 - 19:30

علمائے بحرین کی شوری کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم نے "الدراز" کی امام صادق (ع) مسجد میں نماز جمعہ کے خطبوں کے ضمن میں کہا انضمام اور الحاق کا منصوبہ، جس کو بظاہر <اتحاد> کا نام دیا گیا ہے، درحقیقت علاقے کے سربراہوں کا اتحاد ہے نہ کہ ملتوں اور قوموں کا اتحاد۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے الدراز کی مسجد امام صادق (ع) میں نماز جمعہ کے خطبوں کے ضمن میں اقوام کے حق تلفی اور اتحاد جیسے منصوبوں میں ان کی رائے نہ پوچھنے کے خلیفی ـ سعودی رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: یہ ظالمانہ اقدام تمام علاقائی اور بین الاقوامی معاہدات اور ممالک کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے کہا: اقوام کی رائے پوچھے بغیر اس طرح کا کوئی اتحاد قائم نہیں کیا جاسکتا۔ عوام چوپائے یا بچے یا نادان تو نہيں ہیں جن کی رائے کو نظر انداز کیا جاسکے اور انہیں دیوار سے لگایا جاسکے؛ یا ان سے احتحجاج کا حق چھینا جاسکے۔ بعض حکومتوں نے اس منصوبے کی مخالفت کا اظہار کیا پس قوموں کو کیوں مخالفت کا حق نہيں دیا جاتا؟ بحرینی قوم کو پورا پورا حق حاصل ہے کہ اس اتحاد پر اعتراض کرے یا حتی اس کے ساتھ اتفاق کرلے کیونکہ اس مسئلے کا براہ راست تعلق بحرینی قوم سے ہے۔

شیخ عیسی قاسم نے بحرین میں تعمیر نو ہونے والی مساجد ـ بالخصوص مسجد ابوطالب (علیہ السلام) ـ کو آل خلیفہ کے گماشتوں کے ہاتھوں دوبارہ انہدام جیسے غیر انسانی، غیر مہذب اور غیر اسلامی اقدام کی مذمت کی۔

سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کے سعودی انگریزی منصوبے پر آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے رد عمل کی جھلکیاں ملاحظہ ہوں:آیت اللہ شیخ عیسی احمد قاسم نے نماز جمعہ کے خطبوں میں بحرین سعودی اتحاد کے برطانوی ـ سعودی سازش کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: یہ ظالمانہ اقدام عقل،  عرف عام اور بین الاقوامی رویوں نیز بحرین کے آئین کے مطابق باطل ہے اور آل خلیفہ حکومت کی طرف سے عوامی رائے کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ملت بحرین کے حق کو ختم نہیں کرتی بلکہ عوام کو مکمل اختیار اور حق ہے کہ اس منصوبے کی مخالفت کریں یا پھر اس کی مخالفت کریں کیونکہ ملت بحرین بچپن کے مرحلے سے نہيں گذر رہی اور احمق و نادان بھی نہیں ہے جس سے رائے دہی کا حق چھینا جاسکے۔ــ اس اتحاد کے بارے میں چند سادہ سے سوالات اٹھتے ہیں:ـ یہ اتحاد کس کی طرف سے ہے اور کون کس کے ساتھ متحد ہورہا ہے؟ ـ یہ اتحاد حکومتوں کا ہے یہ اقوام کا؟ یا حکومتوں اور ملتوں کا مشترکہ اتحاد ہے؟ـ کیا اس اتحاد میں سے کچھ حصے کا تعلق ملتوں سے بھی متعلق ہے؟ یا یہ کہ اس اتحاد کا ملتوں سے کوئی تعلق نہيں ہے؟ـ کیا یہ اتحاد عوام کے مفاد میں ہے؟ ـ کیا یہ اتحاد بحرینی قوم کے حال اور مستقبل پر اثر انداز ہوگا؟ ــ ظاہر ہے کہ یہ اتحاد ملتوں کا اتحاد نہیں ہے کیونکہ اگر اس کا تعلق ملتوں اور قوموں سے ہوتا تو قوموں کو بے خبر رکھ کر دیوار سے نہ لگایا جاتا!ــ یہ جو اتنے اہم مسئلے میں ملتوں کو دیوار سے لگایا گیا ہے اور ان کی رائے اور ارادے کو نظر انداز کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل خلیفہ اور آل سعود کی حکومتیں اپنی قوموں سے بالکل الگ تھلگ ہیں اور ان حکومتوں کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ــ یہ ظالمانہ اقدام عقل، بین الاقوامی عرف اور بحرین کے آئین سے متصادم اور باطل ہے۔ بعض لوگ دوسروں پر ظلم کرتے ہيں لیکن اس ظلم کو چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ان کا ظلم برملا ہوجاتا ہے تو ایک عظیم دھاندلی کا سہارا لیتے ہیں اور اس دھاندلی کو مختلف نام دیتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہيں ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس پر تمام طاغوتی حکومتوں کا اتفاق ہے۔

ــ آل خلیفہ کا تجاہل ملت بحرین کے حق کے خاتمے کا سبب نہيں بنتا اور لوگوں کو مکمل آزادی اور اختیار ہے اس منصوبے کی مخالفت کریں یا حتی اس سے اتفاق کرلیں۔ کیونکہ ملتیں گائے بیلوں اور بھیڑوں کا ریوڑ نہيں ہیں، ملت بحرین بچپن کے مرحلے میں نہيں ہے اور لوگ احمق اور نادان نہيں ہیں جن سے حق رائے سلب کیا جاسکے۔ ــ ایسے حال میں کہ بعض ریاستوں کے حکمرانوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے سوال یہ ہے کہ عوام کو اس منصوبے کی مخالفت اور اس پر اعتراض کرنے کا حق کیوں نہيں دیا جاتا؟ ـ آمرین ہمیشہ عوامی رائے کے مد مقابل آکھڑے ہوتے ہيں کیونکہ وہ مطلق العنان اور بے چون و چرا فرمانروائی کے شیدائی ہیں۔ وہ ہمیشہ اصلاحات کے جھوٹے نعروں اور دعؤوں اور مہمل پارلیمانوں کے قیام کے ذریعے عوام اور عالمی رائے عامہ کو دھوکا دیتے ہیں۔ عالمی اہل بیت (ع) کی شورائے عالی کے بحرینی رکن نے آل خلیفہ حکومت کے ہاتھوں انہدام مساجد کے نئے مرحلے کے آغاز اور تعمیر نو ہونے والی "مسجد ابوطالب (ع)" کے دوبارہ انہدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا: ال خلیفہ حکومت کی جانب سے مساجد اور مقدس مقامات کے انہدام کا نیا مرحلہ افسوسناک ہے اور ہدم مساجد آل خلیفہ خاندان کی اقدار کا حصہ بن چـکا ہے اور لگتا ہے کہ حکمران خاندان مساجد کو شہید کرکے اللہ کی قربت حاصل کررہا ہے!!!۔.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بحرین کا الحاق؛ سعودی برطانوی سازش ناکامی کی جانب گامزن