20 مئی 2012 - 19:30

امریکہ کے شہر شیکاگو میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلینٹن کے درمیان ملاقات ہوئی ۔

ابنا: اس ملاقات میں آصف علی زرداری نے کہا کہ جبتک پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اعتماد کا عمل کمزور ہے فریقین کے درمیان مستحکم دو طرفہ تعلقات کی برقراری ناممکن ہے ۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین عدم اعتماد کا ماحول ختم کئے جانے کے بارے میں بھی کہا کہ حکومت امریکہ کو چاہئے کہ وہ سلالہ چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے پر کہ جس میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے اسلام آباد سے معافی مانگنےاور اسی طرح پاکستان پر ڈرون حملے بند کئے جانے کے بارے میں پاکستان کی پارلیمانی سفارشات پر بھرپور توجہ دے ۔ اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلینٹن نے بھی علاقے میں امن کی برقراری میں پاکستان کے موثر کردار کی ضرورت پر تاکید کی ۔ امریکہ کے شہر شیکاگو میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلینٹن کے درمیان یہ ملاقات ایسی حالت میں انجام پائی کہ اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق شیکاگو میں امریکی صدر بارک اوباما نے اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔ بعض امریکی ذرائع نے بھی اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے بارے میں اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ شیکاگو اجلاس کے موقع پر حکومت پاکستان کو نیٹو سپلائی کی بحالی پر رضا مند کرنے کیلئے واشنگٹن کی ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل راسموسن کی دعوت پر نیٹو کے سربراہی اجلاس میں پاکستان کے صدر کی شرکت، جنگ افغانستان اور خاصطور سے افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کیلئے ضروری ساز و سامان کی سپلائی میں پاکستان کے کلیدی کردار کی ترجمان ہے ۔ شیکاگو اجلاس میں پاکستان کے صدر کے ساتھہ امریکہ کے صدر اور اسی طرح نیٹو کے سکریٹری جنرل کا دوہرے معیار کا روّیہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس، نیٹو سپلائی کے حوالے سے اسلام آباد کا موقف تبدیل کرانے کیلئے پاکستان کے خلاف دباؤ اور دھونس دھمکی کی پالیسی پر عمل کررہا ہے اور بارک اوباما کا آصف زرداری سے ملنے سے انکار بھی اسی تناظر میں قابل غور ہے جبکہ نیٹو کے سکریٹری جنرل نے بھی پاکستان کے صدر کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دیکر اس سلسلے میں مذاکرات اور ترغیب دلانے کی پالیسی پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ حالانکہ ان کا کوئي بھی عمل ابتک نیٹو سپلائی کی بحالی کے سلسلے میں پاکستان کا موقف تبدیل نہیں کرا سکا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت پاکستان کی حکمراں جماعت کو نیٹو سپلائی کی بحالی کے حوالے سے پاکستان کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں اور عوام کی شدید مخالفت کا سامنا ہے اور مخالفین نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے اگر نیٹو سپلائی بحال کی تو ملک بھر میں حکومت کے خلاف مظاہرے کئے جائيں گے ۔ چنانچے اس وقت یہ قیاس بھی لگایا جارہا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی سے متعلق حکومت پاکستان کی جانب سے کچھہ علامات ظاہر کئے جانے کے باوجود اسلام آباد کے حکام اس سپلائی کا عمل طویل عرصے تک بند رکھہ کر جنگ افغانستان میں تعاون کے حوالے سے وہائٹ ہاؤس سے مزید مراعات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔......./169