ابنا: اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد میں اعلی فوجی اور سول قیادت کا اہم اجلاس ایوان صدر میں منعقد ہوا جس میں اس مسئلے پر طویل غور و خوض کیا گیا۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکی حکومت کی جانب سے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی باضابطہ معافی مانگنے سے پاکستان نیٹو سپلائی بحال کرنے پر تیار ہے۔
بیانات میں کہا گیا کہ ایک ملک سے نہیں بلکہ اڑتالیس ملکوں سے تعلقات کا معاملہ ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں پاک امریکہ تعلقات اور نیٹو سپلائی کی بحالی کے بارے میں اہم فیصلے کیے گئے جن کی توثیق آج کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی آج نیٹو سپلائی کی بحالی کی اصولی منظوری دے سکتی ہے جس کی کل وفاقی کابینہ توثیق کرے گي۔
نیٹو سپلائی پندرہ سے بیس مئی تک بحال ہونے کا امکان ہے۔ اس کے پیش نظر وزارت پٹرولیم نے آئل ٹینکر مالکان کے وفد کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے کہا ہے کہ امریکی ٹیم اسلام آباد میں موجود ہے اور افغانستان کے لیے نیٹو سپلائی بحالی پر بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت ہوئي ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ میں پاکستان کی امداد پر پابندیاں صرف تجاویز ہیں ابھی انہیں قانونی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔.......
/169