ابنا: باراک اوباما نے صدارتی انتخابات سے پانچ ماہ قبل اے بی سی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے لیے یہ موضوع اہم تھا کہ میں اپنی ذاتی نظر بیان کروں اور کہوں کہ میری نظر میں ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے دو افراد آپس میں شادی کر سکتے ہیں۔ چند روز قبل امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے بھی کہا تھا کہ ان کی نظر میں ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی شادی میں کوئي حرج نہیں ہے۔
امریکہ کے صدر اور نائب صدر کی جانب سے ہم جنس پرستوں کی شادی پر تاکید نے اس مسئلے پر سماجی تنازعات کو ہوا دی ہے۔ اس وقت امریکی معاشرہ ہم جنس پرستوں کی شادی کے قانونی ہونے کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ چکا ہے۔ فردی حقوق کے حامی نام نہاد ادارے اور ہم جنس پرستوں کے گروہ ہم جنس پرستوں کی شادی کو ہر امریکی شہری کا قانونی حق سمجھتے ہیں اور وہ اس اخلاقی برائی اور گمراہی کو قانونی رنگ دینا چاہتے ہیں جبکہ کلیسا جیسے مذہبی ادارے اور اخلاق اور گھرانے کے حامی گروہ ہم جنس پرستی کو ایک غیرانسانی، غیراخلاقی اور غیرقانونی عمل جانتے ہیں۔
البتہ ہم جنس پرستی برسوں سے امریکی معاشرے میں رائج ہے اور ہم جنس پرست جوڑے آزادی کے ساتھ اس طریقے سے زندگی گزارتے رہے ہیں۔ حتی امریکہ کی دائیں بازو کی بعض جماعتوں نے ہم جنس پرستی کو ایک ناگزیر عنصر کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔ لیکن یہ کہ اس عمل کو قانونی حیثیت دی جائے اور ہم جنس باز پرستوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں جو شادی شدہ میاں بیوی کو حاصل ہوتے ہیں، ایک مشکل ساز مسئلہ بن گیا ہے۔
ہم جنس پرستوں کی شادی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ دو ہم جنس پرستوں کی شادی سے اس قسم کے جوڑوں کو بچے حوالے کرنے کا امکان فراہم ہوتا ہے اور ایک ایسے گھر میں بچوں کی تربیت کہ جس میں دو ہم جنس، ماں باپ کا کردار ادا کرتے ہیں، بچوں کی دماغی اور نفسیاتی سلامتی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اسی بنا پر امریکی معاشرے کا یہ گروہ کہ جو سروے رپورٹ کے مطابق اکثریت میں ہے، ہم جنس پرستوں کی شادی کے قانونی ہونے کا مخالف ہے اور وہ عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی رشتے کو ہی شادی سمجھتا ہے۔
البتہ امریکی عوام کی اکثریت کی مخالفت کے باوجود ہم جنس پرستوں کی شادی کے قانونی ہونے سے، باراک اوباما اور اکثر ڈیموکریٹس اس گروہ کی حمایت کا اعلان کر کے آئندہ انتخابات میں زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ہم جنس پرستوں کے حامی گروہوں نے مالی اور میڈیا کی طاقت و توانائی حاصل کر لی ہے جس میں سے کافی طاقت وہ ڈیموکریٹ امیدواروں کو فراہم کرتے ہیں۔ یہ امیدوار بھی انتخابات کے موقع پر ہم جنس پرستوں کے نام نہاد حقوق کے دفاع پر زور دیتے ہیں۔
اس دوران امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے پیش رو صدور کی نسبت کہیں زیادہ ہم جنس پرستوں کے لیے معاشرے میں مؤثر طور پر موجود ہونے کا امکان فراہم کیا ہے۔ اوباما نے نہ پوچھو اور نہ کہو کا قانون لغو کر کے ہم جنس پرستوں کو باضابطہ طور پر فوج میں بھرتی کرنے کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ باراک اوباما کے دور صدارت میں امریکہ کی زیادہ ریاستوں میں ہم جنس پرستوں کی آزادی کا قانون پاس کیا گیا۔ اوباما کو امید ہے کہ وہ یہ کارنامہ انجام دے کر آئندہ انتخابات میں ہم جنس پرستوں کی حمایت حاصل کر لیں گے۔ یہ اقدامات دائیں بازو کے دھڑے کی ناراضی کا باعث بنے ہیں اور ان اقدامات سے باراک اوباما کو وائٹ ہاؤس سے باہر نکالنے کے لیے اس دھڑے کا عزم مزید پختہ ہو گیا ہے۔........
/169