جہاں تک یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان کے اندر جاری بدامنی کسی بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ ہے اور اس ایجنڈے کے اہم نقاط میں ایٹمی پاکستان کو اتنا کمزور کرنا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اقتصادی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے اور عالمی استعمار کی بھیک کے سہارے معیشت کا پہیہ چلائے، بلکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا خاتمہ کرنا بھی بیان شدہ اہداف (Declared targets) میں سے ہے۔ اس ایجنڈے پر کئی جہتوں سے کام جاری ہے، جس میں معاشرے کو انتشار (Polarization) کا شکار کرنا، لسانی، گروہی، علاقائی، فرقہ وارانہ مفادات کے ذریعے سے اور جغرافیائی طور پر پاکستان کو تقسیم کرنا اہم ترین جہتیں ہیں۔
پاکستان نظریاتی اور جغرافیائی دو پہلوؤں سے مسلط کردہ خطرناک جنگ کا شکار ہے اور حکومتی، عوامی، فوجی، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی یا کسی بھی سطح پر کوئی بھی نادانی ملک کو ناقابل تلافی نقصان تک پہنچا سکتی ہے۔ مسلط کردہ اس جنگ میں عالمی استعمار اپنے تمام تر حواریوں اور ہتھکنڈوں کے ساتھ مصروف عمل ہے اور ان کا واضح ہدف ہے کہ پاکستان کو اس کے دوستوں سے محروم کر دیں، دشمنوں میں اضافہ کریں اور دشمنوں کو پاکستان کے اندر تک رسائی دیں، جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کیلئے اتنی مشکلات پیدا کریں کہ وہ گھٹنے ٹیک کر عالمی استعمار یعنی امریکہ اور اس کے مسلم و غیر مسلم حواریوں کے سامنے سر تسلیم خم ہو جائے۔
اس سارے عمل میں استعمار کیلئے پاکستان Binding Force یا قوت وحدت (Cementing Power) کو پارہ پارہ کرنا انتہائی اہم ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جس پر وہ سارا زور لگائے ہوئے ہیں۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور نظریہ پاکستان اس کی وحدت اور بقاء کا ضامن ہے۔ ملک کی سلامتی قوموں سے ہوا کرتی ہیں اور قومیں نظریات کی بنیاد پر لڑا کرتی ہیں۔ اگر نظریہ کمزور اور ضعیف ہو جائے تو ملک قوتِ مزاحمت (Resistence Power) کھو دیتے ہیں۔ پاکستان سے اس کی یہی قوت چھیننے کی روز و شب سعی جاری ہے۔
ملت تشیع پاکستان اس کی نظریاتی اساس کی درست ترین ترجمان اور پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حقیقی محافظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے طول و عرض میں ملت تشیع کے خلاف ایک منظم جنگ چھیڑ دی گئی ہے اور یہ کہنا سو فیصد درست ہو گا کہ اس وقت شجر پاکستان کی آبیاری مکتب تشیع کے پروانے اپنے پاکیزہ ومقدس لہو سے کر رہے ہیں۔ وہ مسلسل قربانیاں تو دے رہے ہیں لیکن دشمن ملک کو فرقہ واریت، بدامنی اور جنگ کی جس آگ میں دھکیلنا چاہتا ہے، اس میں ملک کو دھکیلنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دے رہے۔ یوں پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ملت تشیع پاکستان وطن عزیز کا فطری دفاع ہے اور دشمن سارا زور اس فطری دفاع کی صف اول کو منہدم کرنے پر لگا رہا ہے، لیکن آگاہ، بابصیرت اور بیدار ملت ان کی خواہشاتِ بد کو کامیاب ہونے نہیں دے گی۔
ملت تشیع، پاکستان کا نظریاتی دفاع:۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جب جماعت اسلامی سمیت ہندو پاک کی بڑی مذہبی جماعتیں بالخصوص وہ مذہبی جماعتیں جن کے علمی مراکز، ہندوستان کے اندر تھے اور ہیں اور آج بھی ان مکاتب فکر کی راہنمائی کا فریضہ یہی ہندوستانی مراکز ہی انجام دیتے ہیں، پاکستان کے قیام کی بھرپور مخالف اور اسے غیر دینی ایجنڈا سمجھتی تھیں، اسی وقت آزادی وطن کا نعرہ اگر کسی کا تھا اور پھر خون کے آخری قطرے تک جدوجہد کر کے اس عظیم خواب کو عملی شکل دی تو وہ مکتب اہلبیت ع کے ایک فرزند، قائداعظم محمد علی جناح رہ اور ان کے حواری تھے۔ اور اس دن سے آج تک یہی مکتب پاکستان کی حفاظت کا ضامن رہا۔
امریکہ کے دنیا میں سب سے بڑے حواری اور دنیا کے ایک بڑے عرب ملک سے منسلک اسلام کی ایک اور شاخ نے عملاً اسی ملک کی پالیسیوں پر عمل کیا اور ان کی ہدایات پر چلے، یوں ان بعض مکاتب فکر کا نام لے کر امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ مکاتب فکر تھے کہ جنہوں نے افغانستان کے معاملے پر امریکی اہداف کیلئے بہترین کام کیا اور بہترین تعاون ثابت ہوئے۔ یوں عملاً استعماری اور حکومتی آشیر باد کے نتیجہ میں یہ مکاتب فکر خاص انداز کے ساتھ پاکستان میں وسعت پاتے رہے، ان کے مراکز قائم ہوتے رہے اور پھر ہزاروں تربیت یافتہ دہشتگردوں نے وطن عزیز کے امن کو تہہ و بالا کر دیا۔
پس آج غور کریں تو صرف دو مکاتب فکر نظر آئیں گے جو نہ افغانستان میں امریکی جنگ لڑ رہے ہونگے اور نہ کشمیر میں ایجنسیوں کی جنگ، وہ نہ تو وطن عزیز میں کسی ملک کسی مسلمان کی عزت، حریت، جان، مال یا مقدس جگہوں کی پامالی کرتے نظر آئیں گے اور نہ ہی وطن عزیز کے کسی غیر مسلم فرد یا جگہ کو نشانہ بناتے نظر آئیں گے، بلکہ ہمیشہ داخلی وحدت کام کرتے نظر آئیں گے۔ یہ دو مکاتب فکر اہلسنت اور اہل تشیع پاکستان ہیں اور ان میں جو بھی پاکستان بنانے کے اعزاز کی وجہ سے خط مقدم پر ہیں، وہ مکتب اہلبیت ع کے ماننے والے ہیں۔
ملت تشیع پاکستان نے کبھی بیرونی ڈکٹیشن نہیں لی۔ وہ شروع دن سے پاکستان کے ازلی دشمن امریکہ کے خلاف نعرہ زن ہیں، انہوں نے نظریاتی بنیادوں پر کشمیر کی آزادی کی تحریک کی حمایت کی اور اس کیلئے خون بھی دیا، لیکن ایجنسیوں کی Push Button پالیسی کا حصہ نہیں بنے۔ جو ایسے نام نہاد جہاد کو وجود میں لاتے ہیں جو ایک بٹن دبانے سے شروع اور بٹن دبانے پر ختم ہوتا ہے، یعنی جنگ حکومتی ضرورت اور پالیسی تھی، جہاد جاری تھا اور جب پالیسی بدلی تو جہاد ختم، یہ اعزاز اس مکتب کو جاتا ہے کہ ان کے رہبر نے تازہ ترین خطاب میں ہندوستان کے کشمیر میں جاری مظالم کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالم اسلام کا مسئلہ قرار دیا اور یہ سب ایسے وقت میں کہا کہ جب ہم ہندوستان سے دوستی اور تجارت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔
مکتب اہلبیت کے ماننے والے افغانستان جیسے مسلمان ملک میں امریکی و روسی مداخلت کے مخالف رہے، لیکن کبھی امریکی ایجنڈے کا حصہ بن کر نام نہاد جنگ نہیں کی، یہی وہ مکتب فکر ہے جو چونکہ بیرونی دباؤ سے آزاد اور صرف آزاد و خود مختارجمہوری اسلامی پاکستان دیکھنا چاہتا ہے، اس لئے بجا طور پر وہ پاکستان کا نظریاتی دفاع ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے اس اعزاز کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ملک کے کونے کونے میں اس مکتب سے تعلق رکھنے والوں کی لاشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہی نظریہ ہے جو دشمن کے مقابل پہلی صف میں صف آرا ہے اور اسی لئے تمام ملک دشمنوں کا ہدف اولین ہے خواہ یہ دشمن داخلی ہوں یا خارجی۔
ملت تشیع، پاکستان کا جغرافیائی دفاع:
مکتب اہلبیت ع کے ماننے والے جغرافیائی اعتبار سے بھی پاکستان کے اہم ترین مناطق میں فطری دفاع کا کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور احساس منطقہ گلگت و بلتستان کا علاقہ ہے، یہ شاہراہ ریشم کی گزر گاہ ہے، یہ پاکستان کو دوست ملک چین سے ملانے والا واحد راستہ ہے۔ یہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور دنیا کی چھت اور بلند ترین محاذ جنگ سیاچن کا علاقہ ہے۔ یہ ان گلیشئر کا علاقہ ہے کہ جن پر قریب دو ارب لوگوں کی پانی کی ضرورت کا انحصار ہے اور یہی وہ علاقہ ہے کہ جہاں پاکستان کا دشمن انڈیا تاک میں بیٹھا ہے کہ جہاں اور جب موقع ملے وار کرے، یہی کارگل، دراس، اور سیاچن کی سرزمین ہیں۔
یہی وہ گلگت و بلتستان ہیں کہ آج بھی ہندوستان نے اپنے پارلیمنٹ میں اس منطقہ کیلئے دو خالی نشستیں ریزور Reserve رکھی ہیں اور وہ آج بھی ان کے پرس میں ہے۔ یہ منطقہ اکثریتی شیعہ علاقہ ہے اور یہاں فوج سے زیادہ مقامی عوام دفاع کا کام کرتے ہیں۔ این ایل آئی کا نام پاکستان کی فوج کی