7 مئی 2012 - 19:30

ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات محض انرجی کے ذخائر کی سپلائي تک محدود نہیں ہیں: ایس ایم کرشنا

ابنا: ہندوستان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کے امریکی دباؤکو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات محض انرجی کے ذخائر کی سپلائي تک محدود نہیں ہیں بلکہ ہندوستان خلیج فارس کے علاقے میں اسٹراٹیجیک مفادات رکھتا ہے۔

ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے آج نئي دہلی میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے ملاقات میں کہا کہ خلیج فارس اور مغربی ایشیائي ملکوں میں ہندوستان کے اسٹریٹیجک مفادات ہیں اور چونکہ ان ملکوں میں ہندوستان کے ساٹھ لاکھ افراد روزگار سے جڑے ہوئے ہیں لہذا یہ علاقہ ہندوستان کے وسیع تر مفادات کے لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

ہندوستان وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ نئي دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہندوستان کی انرجی کی ضرورتیں پورا کرنے کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے لیکن ہم ایران کو صرف تیل سپلائي کرنے والے ایک ملک کی حیثیت سے ہی نہیں دیکھتے ہیں بلکہ سب سے پہلے ہماری نظر میں خلیج فارس میں امن و استحکام کی اہمیت ہے اور خلیج فارس کے علاقے میں ہمارے وسیع تر مفادات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہماری برآمدات کے لیے ایک اہم ترین ملک ہے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیج فارس کے علاقے کے لئے ہماری برآمدات ایک سو ارب ڈالر پر مشتمل ہیں جبکہ اس علاقے سے ہم ایندھن کی ضرورتوں کا ساٹھ فیصد حصہ حاصل کرتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مختلف ملکوں نے ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے اور ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔....... /169