ابنا: حالیہ چند مہینوں کے دوران صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسی الزام کو بہانہ بناتے ہوۓ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیں لیکن اب ایران کے سلسلے میں صہیونی حکام کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب بغداد میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں تین ہفتوں سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ نے روس اور چين کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوۓ اعلان کیا ہے کہ وہ بھی بغداد مذاکرات کو ایک سنہری موقع جانتے ہیں۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور تیئیس مئي کو بغداد میں ہوگا۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات کے دائرے میں ایران کے ایٹمی معاملے کے حل کا عمل اسرائیلی حکام کے غم و غصے میں مبتلاء ہونے کا باعث بنا ہے۔
اسرائیل کے اعلی حکام کے درمیان اختلافات اس قدر شدید ہوچکے ہیں کہ کادیما پارٹی کے رہنما شائول موفاز اور لیبر پارٹی کے رہنما باراک نیز میرتز پارٹی کے رہنما نے سولہ اکتوبر کو قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کردیا ہے۔ اسرائیل بیتنا پارٹی کے رہنما لیبر مین نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی کابینہ سے الگ ہورہی ہے نتیجتا نیتن یاہو اس وقت بالکل تنہا رہ گیا ہے۔
لیبر مین نے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مستعفی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے بھی کچھ عرصہ قبل صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ کے زیر اہتمام منعقدکی جانے والی ایک کانفرنس میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوۓ کہا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اس طرح کے حملے کے بارے میں گفتگو کرنے کی کوئي وجہ نہیں ہے۔
صہیونی ریاست کے اعلی عہدیداروں نے حالیہ مہینوں میں مختلف اجلاسوں ، تقریروں اور میٹنگوں کے دوران ایران کو بقول ان کے ایٹمی معاملے کے حوالے سے ضرب لگانے سے متعلق اتفاق راۓ پیدا کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔
صہیونی حکام نے ایران کے ایٹمی معاملے کو خطرہ ظاہر کرنے کا کوئي بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ انھوں نے یورپ کی راۓ عامہ کو مشتعل کرنے کے لۓ کئی بار دعوی کیا کہ ایران آئندہ چند ماہ تک ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہوجاۓ گا۔ لیکن اس طرح کے پروپیگنڈہ سے بھی ان کو کوئي فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔
ایران پر دباؤ جاری رکھنے سے متعلق اسرائیل کی شکست کے آثار صہیونی حکام کے مواقف میں واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صہیونی ریاست کو ان دنوں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے اور وہ بہت زیادہ حد تک زوال پذیر ہوچکی ہے۔
صہیونی حکام کی جانب سے اختلافات پر مبنی بیانات کے معنی بھی یہ ہیں کہ ایران کے خلاف اسرائيل کی دھونس و دھمکی کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل سمیت اس کے اتحادی اس سے پہلے بارہا ایران پر فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں لیکن ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ ہر طرح کے ممکنہ فوجی حملے کا منہ توڑ جواب دیں گے ۔
ایرانی حکام نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف کیا جانے والا ممکنہ فوجی اقدام ایک ایسی جنگ پر منتج ہوگا جس کا دائرہ مشرق وسطی کی حدود تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں تک پھیل جاۓ گا۔....... /169