4 مئی 2012 - 19:30

روس کے آرمی چیف جنرل نکولائی ماراکف نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائٹ ہاؤس نے یورپ میں میزائل ڈیفنس سسٹم پر تعمیری مذاکرات کو جاری رکھنے سے گریز کیا تو ماسکو اس سسٹم پر پیش بندی کے طور پر حملہ کرنے کا حق اپنے لیے محفوظ رکھتا ہے۔

ابنا: روسی آرمی چیف نے جمعرات کے روز ماسکو میں منعقدہ یورپ میں نیٹو کے میزائل ڈیفنس کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ حالات سخت اور دشوار ہونے کے بعد پیش بندی کے طور پر حملے کے لیے ہتھیاروں کی تنصیب کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔روس کی قومی سلامتی کے سیکرٹری پیٹروشف نے بھی اس کانفرنس میں کہا کہ روس اور نیٹو کے مشترکہ میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب موجودہ تعطل سے باہر نکلنے کا بہترین راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی مشترکہ منصوبہ بندی سے تمام ملکوں کی سلامتی کو تحفظ حاصل ہو گا اور علاقے میں اسٹریٹجک توازن بھی خراب نہیں ہو گا۔امریکہ کی جانب سے یورپ میں میزائل ڈیفنس سسٹم کے مشترکہ کنٹرول کے لیے ماسکو کی درخواست کی مخالفت کے بعد روس نے حال ہی میں دھمکی دی ہے کہ وہ کالینینگراڈ کے علاقے میں اپنے درمیانی رینج کے میزائل اسکندر نصب کرے گا۔ روس نے ہمیشہ یورپ میں میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد روس کا محاصرہ کرنا ہے۔ روسی حکام نے حالیہ دنوں کے دوران مشرقی یورپ میں امریکہ اور نیٹو کے میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کی سختی سے مخالفت کی ہے۔روسی وزیر دفاع اناتولی سردیوکف نے بھی کہا ہے کہ میزا‏ئل ڈیفنس سسٹم کے مسئلے پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں روسی صدر دمیتری میدودف نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ تباہ نہیں کرے گا لیکن وہ انہیں استعمال کرنے کا بھی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔روس کے وزیر اعظم ولادیمیر پوتین نے بھی حال ہی میں کہا ہے کہ ان کا ملک یکطرفہ طور پر اپنے ایٹمی ہتھیار تباہ نہیں کرے گا۔ اس سلسلے میں تمام ایٹمی طاقتوں کو اقدام کرنا چاہیے۔اطلاعات کے مطابق روس کے پاس تقریبا تیرہ ہزار ایٹمی ہتھیار موجود ہیں کہ جن میں سے تقریبا پانچ ہزار آپریشنل حالت میں ہیں۔ان حالات میں امریکی نائب وزیر خارجہ ہیلن تاؤشر نے جمعرات کے روز ماسکو میں کہا ہے کہ یورپ میں میزائل ڈیفنس سسٹم کی ماہیت کے بارے میں روس کو قانونی ضمانتیں پیش کرنا ممکن ہے۔یہ ایسے حالات میں ہے کہ اس سے پہلے تک امریکی حکام نے بارہا یہ کہا تھا کہ امریکہ یورپ میں میزائل ڈیفنس سسٹم کی ماہیت کے بارے میں روس کو قانونی ضمانتیں فراہم نہیں کرے گا۔براعظم یورپ میں میزائل سکیورٹی اور اس براعظم کے ملکوں میں میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کے لیے امریکی فیصلہ گزشتہ برسوں کے دوران ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان اہم ترین وجہ اختلاف رہا ہے کہ جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔روسی حکام براعظم یورپ خاص طور پر روسی سرحدوں کے قریب امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کو اپنی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں۔......./169