28 اپریل 2012 - 19:30

مقبوضہ فلسطين سے موصول ہونے والي خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ صہیوني ریاست سياسي خلفشار اور اقتدار کے لئے رسہ کشي سے دوچار ہے -

ابنا: صہیوني وزير خارجہ اويگڈر ليبرمين نے قبل از وقت پارليماني انتخابات کي بابت خبردار کيا ہے اور کہا ہے يہ صورت حال اسرائيل کے مفاد ميں نہيں ہےـ

 صہیوني وزير خارجہ نے کہا ہے  کہ کابينہ کا موجودہ ڈھانچہ قائم رہنا چاہئے اور انتخابات کا انعقاد سنہ دو ہزار تيرہ ميں اپنے معينہ وقت پر ہونا چاہئےـ

    ليبرمين نے ايسے وقت يہ انتباہ ديا ہے کہ جب صہیوني ذرائع ابلاغ نے بتايا ہے کہ صہیوني ریاست کي اٹھارھويں پارليمنٹ کے منحل ہو جانے اور قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا قوي امکان ہےـ
 

   دوسري جانب ليبر پارٹي نے فيصلہ کيا ہے کہ وہ پارليمنٹ کو منحل کرنے اور انتخابات کرائے جانے کي تجويز ديگي ـ
 

   صہیوني کابينہ کے سقوط اور پارليمنٹ کے منحل ہونے کے امکانات کي خبروں کے ساتھ ہي صہیوني حکام کے مابين اقتدار کي رسہ کشي ميں شدت آ جانے کي اطلاعات ہيں ـ اسرائيل کي داخلي سيکورٹي کي خفيہ ايجنسي کے سابق سربراہ پاول ڈيسکين نے صہیوني وزير اعظم نيتن ياہو اور وزير جنگ ايہود باراک کو نااہل قرار ديتے ہوئے ان پر سخت نکتہ چيني کي ہےـ

خارجہ پاليسي اور داخلي صورت حال کو مطلوبہ نہج پر لانے ميں صہیوني حکام کي ناکامي کے بعد ان کے مابين لفطي جنگ تيز ہو گئي ہے-

ياول ڈيسکين نے اقتدار کي رسہ کشي ميں سياسي ٹارگٹ کلنگ اور انتہا  پسندي ميں اضافے کي بابت خبردار کياـ

ياول ڈيسکين نے کہا کہ مقبوضہ فلسطين ميں اسي طرح کي ٹارگٹ کلنگ ہو سکتي ہے جس طرح انيس سو پچانوے ميں سابق وزير اعظم اسحاق رابن کے خلاف انتہا پسند صہیونيوں نے کي تھي ـ ان حالات ميں ايسا لگتا ہے کہ صہیوني ریاست سياسي تغيرات سے گزرتے ہوئے خطرناک موڑ پر پہنچ چکي ہے اور صہیوني ریاست بکھراؤ کے دہانے پر ہےــ

..............

/169