ابنا: مصر کے باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مصر کے ایک صدارتی امیدوار کو قطر نے تین ارب دینار دئےہیں جبکہ ایک اور امیدوار کو سعودی عرب نے دو ارب دینار رشوت دی ہے۔ م
حیط ویب سائٹ کے مطابق اس خبر کا انکشاف کرنے والوں نے نام ظاہر نہ کئے جانے کی شرط پر کہا ہے کہ مصر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسی دستاویز ملی ہے جس سے صدارتی امیدواروں کی رشوت ستانی کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس دستاویز کاجائزہ لیا جا رہا ہے اور بہت جلد اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اس خبر میں سعودی عرب اور قطر سے رشوت لینے والوں کے نام نہیں ہیں البتہ اس بات کی طرف اشارہ کیا گيا ہے کہ ان امیدواروں کو مصر کے اعلی انتخابی کمیشن نے نااہل قرار دے دیا ہے۔ ادھر مصر کے ماہرین قانوں نے مصر کے اٹارنی جنرل کو ا یک خط بھیج کر بعض صدارتی امیدواروں کی انتخاباتی سرگرمیوں کے خطیر بجٹ پر اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان امیدواروں کی آمدنی کے ذرائع واضح کئے جائيں۔
ادھر سعودی عرب کی جانب سے مصر کے سلفیوں پر تسلط جمانے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور مصرکے سلفیوں نے سعودی عرب کے ایک قانون کو مصری پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔ اخوان المسلمین کے سلفیوں نے سائبر جرائم سے مقابلے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے جو سعودی عرب کے قانون کی ہوبہو کاپی ہے۔ بوابۃ الاھرام نامی اخبار نے لکھا ہے کہ اس بل کو پیش کرنے والوں کو یاد نہیں رہا کہ سعودی قانون میں مملکۃ کا لفظ موجود ہے اسے نکال دیں۔.......
/169