ابنا: مقتدی صدر، عراقی کردستان کےدورے سےپہلے اربیل اوربغداد کےدرمیان کشیدگی دورکرنےکےلئے بھرپورکوشش کریں گے۔
عراق کی مرکزی حکومت کےوزیراعظم نوری مالکی اور عراقی کردستان کےصدرمسعود بارزانی کی سربراہی میں اختلافات گذشتہ مہینوں میں اس علاقےکےتیل اور عراق کےسابق نائب صدرطارق الھاشمی کےفرار کےبعد شروع ہوئےہيں۔
عراق کی مرکزی حکومت کاکہناہے کہ کردستان کےعلاقے کےحکام اس علاقےکاتیل نکالنےکےلئے غیرملکی کمپنیوں سےیکطرفہ قرارداد کرنےسےاجتناب کرتےہوئے طارق الھاشمی کوبغداد کےحوالےکریں۔
عراقی عدالت نے طارق الھاشمی پردہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونےکاالزام لگایاہے اور ان پربغداد میں مقدمہ چلانےکےلئےعدالت میں حاضرہونےکامطالبہ کیاہے لیکن مطلوب طارق الھاشمی ،اپنےاوپرعائدالزامات کومستردکرتےہوئے عدالت کےسامنےحاضرہونےکےلئےتیار نہيں ہیں اس بیچ کردستانی حکام کی جانب سےطارق الھاشمی کوحوالےنہ کرنےپراصرار ، مرکزی اورصوبائی حکومت کےدرمیان اختلافات بڑھنےکاباعث بنا ہے۔
عراق کےصدرگروہ کےسربراہ مقتدی صدر جن کےدورہ کردستان کےموقع پر مسعود بارزانی نےپرجوش استقبال کیاہے جمعہ کےدن صحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےکہاکہ وہ اٹھارہ شقوں پرمشتمل منصوبہ پیش کرکےعراق کےتمام سیاسی گروہوں کےدرمیان مذاکرات کےخواہاں ہيں اور ان کاخیال ہے کہ عراق میں انحصارپسندی اورالگ تھلگ کرنےکی پالیسی ختم ہونی چاہئے۔
مقتدی صدر نےاس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہ اقلیتیں عراق کا اہم حصہ ہیں کہاکہ ہمیں چاہئےکہ انھیں سیاسی اورمعاشی امور میں شریک کریں۔ مقتدی صدر نےترک وزیراعظم پربھی تنقید کی جنھوں نےعراقی وزیراعظم پراہلسنت کےساتھ امتیازی سلوک کرنےکاالزام لگایاتھامقتدی صدرنےکہاکہ ہم عراق کےداخلی امور میں کسی بھی ملک کی جانب سےکسی بھی طرح کی مداخلت کومسترد کرتےہيں۔
درایں اثنا کردستان کےصدر کےدفترکےسربراہ فواد حسین نے مقتدی صدرکےدورہ کردستان کااستقبال کرتےہوئےکہاکہ یہ تاریخی دورہ کردستان اور دوسرےعلاقوں کےدرمیان تعلقات کومستحکم کرےگااورملک کی سیاسی صورت حال میں استحکام کاباعث ہوگا۔ اس سےقبل مقتدی صدر کےترجمان شیخ صلاح العبیدی نےبغداد میں ایک پریس کانفرنس میں کہاتھاکہ اس طرح کااقدام بحران عراق کےحل کےلئےضروری تھا۔
اس میں کوئی شک نہيں کہ مقتدی صدرکاعراقی کردستان کاتاریخی دورہ اورحکام سےان کاصلاح ومشورہ عراق کی سیاسی فضاکوبہتربنانے میں مدد گار ثابت ہوگااور توقع ہےکہ یہ آئندہ دنوں میں عراق کےپیچیدہ سیاسی بحران کےخاتمےکےلئےنئی کوششوں کاآغازثابت ہو۔ .......
/169