25 اپریل 2012 - 19:30

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے دیر سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بحرین کے بحرانی حالات پر تشویش ظاہرکی ہے اور آل خلیفہ کی شاہی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں لوگوں کے حقوق کا احترام کرے۔

ابنا: انہوں نے بحرین کی جیل میں ستر دنوں سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال کرنے والے سیاسی رہنما عبدالہادی خواجہ کی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بحرینی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد اس مسئلے کو حل کریں۔

بھوک ہڑتال کے سبب عبدالہادی خواجہ کی تشویش ناک صورت حال نے بحرین میں انسانی حقوق کے مسئلے، اس ملک کے حالات اور سب سے اہم لوگوں کے ساتھ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے تشدد آمیز رویے کی طرف عالمی توجہ مبذول کر دی ہے۔

اس دوران یورپی یونین کی انسان حقوق کی تنظیم نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کے حامیوں کے ساتھ اختیار کیا جانے والا طرزعمل اور سلوک غیرانسانی اور غیرقانونی ہے۔ اس بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بحرینی حکام نے قیدیوں خاص عبدالہادی خواجہ کی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے میں کوتاہی کی ہے۔

اس وقت عبدالہادی خواجہ بحرین پر حاکم حکومت کے خلاف عوام کی مزاحمت و استقامت کی علامت میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ عبدالہادی خواجہ نے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھ کر کہ جو بحرین میں موجود بدترین سیاسی و سماجی حالات کے خلاف ایک احتجاجی اقدام ہے، اس ملک کے واقعات کو عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

ایک سال سے زائد کے عرصے سے بحرین کے عوام کی حریت پسندی کی آواز کا جواب لاٹھی گولی اور تشدد سے دیا جا رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران اقوام متحدہ نے کہ جو سب سے بڑا بین الاقوامی ادارہ ہے، بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لوگوں پر ظلم و تشدد پر کوئي ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اقوام متحدہ پر مغرب کے اثرورسوخ کی وجہ سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بحرین میں آل خلیفہ کے تشدد اور ظلم پر ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران حتی امریکہ کی سبز جھنڈی اور سعودی عرب قطر اور جنوبی خلیج فارس کے ملکوں کی مدد سے بحرین میں پرامن عوامی مظاہروں کو طاقت کے زور پر کچلا گيا اور ہر روز ظلم و ستم میں اضافہ ہوتا گيا۔ تازہ ترین اقدام میں متحدہ عرب امارات کے پولیس سربراہ نے جنوبی خلیج فارس کے ملکوں کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلح گروپ تشکیل دے کر بحرین کے عوام کو کچلنے کے لیے آل خلیفہ حکومت کی مدد کریں۔

یہ اپیل ایک ایسے وقت میں کی گئی کہ جب سعودی عرب کے ہزاروں فوجی مارچ دو ہزار گیارہ سے بحرین میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز سے لوگوں کو کچلنے میں بحرین کی شاہی حکومت کا ساتھ دینے کے لیے اس ملک میں موجود ہیں اور عوامی مظاہروں کو سختی کے ساتھ کچل رہے ہیں۔

بحرین میں اتنی بڑی تعداد میں سعودی عرب کے فوجیوں کی موجودگی اس ملک پر قبضے کے مترادف سمجھی جاتی ہے، لیکن اقوام متحدہ نے کہ جو عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی دعویدار ہے، اس سلسلے میں کوئي ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس امر نے بین الاقوامی اداروں میں عالمی لابیوں کے کردار کو پہلے سے زیادہ واضح کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہاتھ جو بحرین میں آل خلیفہ کے جرائم پر عالمی اداروں کی خاموشی کا سبب بنے، اس وقت بھی وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں تاکہ اس ملک میں عوامی مظاہروں کو کچلنے کے ساتھ ساتھ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کا تحفظ کر سکیں۔

بحرین میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی نے بحرین کے داخلی امور میں امریکہ کی مداخلت اور شیخ حمد کا ساتھ دینے کے لیے مطلوبہ محرک پیدا کر دیا ہے۔ جنوبی خلیج فارس کے عرب ممالک نے کہ جن میں سے اکثر مغرب کے پٹھو ہیں، عرب ملکوں میں شاہی نظام کے تحفظ کے لیے آل خلیفہ خاندان کی حمایت کی پالیسی اختیار کی ہے۔

لیکن عالمی رائے عامہ کے سامنے اب یہ سوال ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کہ جنہوں نے شام کے بحران کے سلسلے میں اتنی سرگرمی دکھائی، ایک سال سے زائد عرصے تک بحرین کے حالات کے بارے میں کیوں چپ رہے اور اب بھی انہوں نے بحرین کے حالات و واقعات خاص طور پر عبدالہادی خواجہ کی تشویشناک صورت حال کے بارے میں صرف افسوس کا اظہار کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ کیا یہ بات علاقے کے حالات و واقعات کے بارے میں اقوام متحدہ کے دہرے موقف کی عکاسی نہیں کرتی ہے؟
....... 
/169