ابنا:شیخ علی سلمان نے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت حقیقی اصلاحات اور عوام کے مطالبات کو نظر انداز کررہی ہے جس سے ملک میں سیاسی عمل معطل ہوکر رہ گيا ہے۔
بعض ذرائع کے مطابق بحرین کے بادشاہ نے انقلابیوں سے ایک بار پھر مذاکرات کرنے کی بات کی ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ شیعوں کو وزارت عظمی کے منصب اور فوجی و پولیس میں داخلے کے بارے میں کوئي مذاکرات نہیں ہوسکتے ہیں۔
بحرین میں انقلابی دھڑوں نے شاہ بحرین کی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہٹ دھرمی ہرگز قابل قبول نہیں ہے کیونکہ جو پارلیمنٹ کا انتخاب کرتا ہے اسی کو وزیر اعظم منتخب کرنے کابھی حق ہے اور یہ شیعہ مسلمانوں کا اکثریت ہونےکی صورت میں حق ہے کہ وہ فوج اور سکیورٹی فورسس میں شامل ہوں۔
ادھر امریکہ کے ایک سیاسی تجزیہ نگار حسین عبداللہ نے کہا ہے کہ بحرین پر ایک خاندان مسلط ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ بحرین اسکی ملکیت ہے اور وہ جو چاہے عوام اور ملک کے ساتھ کرسکتا ہے۔ قابل ذکر ہے ملت بحرین اپنے پامال شدہ حقوق اور آل خلیفہ کی جاھلانہ امتیازی پالیسیوں کےخلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ .......
/169