ابنا: افغانستان کی وزارت خارجہ کےترجمان نےامریکی کانگریس کےکچہ نمائندوں کی موجودگی اور افغانستان کےقومی محاذ کےساتھ ان کےمشترکہ اعلامیے کواپنےملک کےداخلی امور میں ایک بیرونی ملک کی کھلی مداخلت سےتعبیرکرتےہوئے اس کی مذمت کی۔
افغانستان کی وزارت خارجہ کےترجمان جانان موسی زی نے پیر کےدن کابل میں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ ہم افغانستان کےسیاسی نظام پرتنقیدکی مذمت کرتے ہيں اور کھل کراعلان کرتےہیں کہ افغانستان کی قسمت کافیصلہ اور اس کےداخلی مسائل کاتعلق صرف افغان عوام سے ہے۔
افغانستان کےقومی محاذ اور امریکی کانگریس کےوفد نے کابل میں ایک مشترکہ اعلامیے میں افغانستان سےغیرملکی فوج کےمکمل انخلا سے پہلےاس ملک کےسیاسی نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت پرتاکیدکی ۔
افغانستان کےقومی محاذ کےترجمان نے افغانستان کی وزارت خارجہ کےترجمان کےموقف پر ردعمل ظاہرکرتےہوئےکہاہے کہ ایسانظرآتاہے کہ حکومت کی نگاہ میں ملک کےسیاسی امور پراظہارخیال کرنا خلاف قانون اورممنون ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی نظر میں افغانستان کی سیاسی تبدیلیوں کےسلسلےمیں قومی محاذ اورامریکی حکام کےبیانات کی افغان حکام کی جانب سےمخالفت ملک کےآئندہ سیاسی نظام کےبارےمیں اختلاف نظرسےمربوط ہے۔افغانستان کی اپوزیشن جماعتوں کاتحاد قومی محاذ ملک کےسیاسی نظام میں تبدیلی چاہتاہے اور ملک میں صدارتی نظام کےبجائے پارلیمانی نظام حکومت چاہتاہے جس میں ہرصوبے کی اپنی صوبائی حکومت ہوجو مرکز کی نگرانی میں کام کرے۔
اس بات کےپیش نظرامریکہ طالبان کوافغانستان کی سیاسی تبدیلیوں میں شامل کرنے کی تشویق دلانےاور اسےجنوبی اور جنوب مشرقی علاقوں میں سیاسی مراعات دینے کےلئے افغانستان کےسیاسی نظام میں تبدیلی اور فڈرل نظام کاحامی ہے۔ لیکن افغان حکومت موجودہ آئین اورصدارتی نظام حکومت پرتاکیدکرتی ہے اور اس کاخیال ہے کہ آئین میں تبدیلی اورفڈرل نظام حکومت کااس ملک کی تقسیم کےعلاوہ کوئی نتیجہ نہيں نکلےگا۔ اور اسی بنا پرافغان حکومت ملک کےآئندہ سیاسی نظام میں تبدیلی کےبارےمیں اپوزیشن کے ہرطرح کےموقف کی مخالف ہے۔
اسی بناپرافغانستان میں مختلف نسلوں سےتعلق رکھنےوالے افراد جوپشتونوں کےمقابلےمیں کمزور پوزیشن کے حامل ہیں اس ملک کےسیاسی میدان میں طالبان کی موجودگی کوجوامریکہ چاہتاہے، دوسری نسلوں اورمذاہب کےلوگوں کے لئے نقصان دہ سمجھتےہيں۔ ان کاخیال ہے کہ آئین کی تبدیلی اورپارلیمانی اورفیڈرل نظام حکومت میں تمام نسلیں اورمذاہب اپنےعلاقوں میں اپنی صوبائی حکومت کی حامل ہوسکتی ہيں اوراپنی پارلیمانی نشستوں کےلحاظ سے مرکزی حکومت میں بھی مناسب مقام حاصل کرسکتی ہيں۔بہرحال افغانستان کی تقسیم کامسئلہ اس وقت افغان حکومت کےلئے سب سےزیادہ باعث تشویش ہے کیونکہ سیاسی نظام میں تبدیلی پرتنقیدین کرنےوالوں کی نظرمیں امریکہ مخالف گروہوں کی حمایت حاصل کرکےاس پرعمل درآمدکرناچاہتاہے۔....... /169