22 اپریل 2012 - 19:30

فارمولا ون کو بحرینیوں نے فارمولا بلڈ کا نام دیا ہے اور حکومت نے یہ مقابلے حقائق کو الٹ کر دکھانے کی نیت سے منعقد کئے؛ کون جیت گیا اور کون ہارگیا یہ تو الگ بات ہے لیکن ایک بات مسلم ہے کہ آل خلیفہ خاندان نے یہ مقابلے انقلابی تحریک کو کچلنے میں اپنی کامیابی کا بہانہ بنایا تھا لیکن ان مقابلوں نے اس کو مزید رسوا کردیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق بحرینی راہنما یحیی الحدید نے کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے فارمولا ون کے عنوان سے کار ریس کے مقابلے کروا کر اپنا یہ دعوی درست ثابت کرنے کی اپنی سی کوشش کی تھی تا ہم جمعہ کے روز لاکھوں بحرینیوں کی احتجاجی ریلی اور آل خلیفہ کی فورسز کے تشدد آمیز اقدامات نے اس حکومت کو عالمی حلقوں میں پہلے سے کہیں زیادہ رسوا کردیا۔

الحدید نے کہا: گذشتہ کچھ دنوں کے دوران بحرین کے مختلف علاقوں میں درجنوں شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور خلیفی بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے سیکورٹی فورسز کو ـ جن کی اکثریت کرائے کے بیرونی فوجیوں یا جارح سعودی فوجیوں پر مشتمل ہے ـ کو حکم دیا ہے کہ پرامن عوامی ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں شریک نہتے عوام کو جنگي گولیوں کا نشانہ بنائیں تا کہ عوام کو ڈرایا جاسکے اور کار ریس کے دوران بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کو بحرین کی حقیقی صورت حال کا علم نہ ہوسکے۔

انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام کو معلوم ہے کہ بیرون ملک سے سینکڑوں نامہ نگار آچکے ہیں چنانچہ وہ فارمولا ون کے موقع پر عالم رائے عامہ کو اپی مظلومیت سے آگاہ کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جمعہ اور ہفتہ کے روز بحرین کے عوام نے عظیم ترین ریلیں نکالیں جن کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ مہمان نامہ نگاروں کو بحرین کی اصل صورت حال سے آگاہ کیا جاسکے اور دنیا والوں کو بتایا جاسکے کہ بحرین میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے بلکہ یہاں ایک مظلوم قوم رہتی ہے جس پر سینکڑوں برسوں سے ایک ہی خاندان مسلط ہے اور حکمران خاندان نے عوام کے تمام حقوق دبادیئے ہيں اور بیرونی ممالک سے برآمد کردہ کرائے کے فوجیوں کے سہارے اپنی بات عوام پر مسلط کررہا ہے۔ .......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

انقلاب کرامت کا 434واں دنبحرین میں فارمولا ون یا فارمولا بلڈ/ انقلابی راہنما کی شہادت