15 اپریل 2012 - 19:30

پاکستان میں سنجیدہ حلقوں اور سول سوسائٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع بنوں جیل سے طالبان قیدیوں کے چھڑائے جانے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کالعدم تحریک طالبان کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور حکومتی اداروں کی اس سے لاتعلقی اور بعض داخلی طاقتوں کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کو ملکی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات دو ڈھائی سو کی تعداد میں دہشت گردوں نے بنوں سینٹرل جیل پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ اس موقع پر سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں سے ان کی جھڑپ ہوئی لیکن وہ چھ بیرکوں سے تقریبا چار سو قیدیوں کو چھڑا کر اپنے ساتھ لے گئے جن میں خطرناک دہشت گرد، غیرملکی شدت پسند اور سنگین مقدمات میں ملوث خطرناک قیدی بھی شامل ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق فرار ہونے والوں میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں سزائے موت پانے والے قیدی عدنان رشید بھی شامل ہے، جو جیل کے اندر پھانسی گھاٹ میں موجود تھا۔دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو جیل سے چھڑا لیا ہے۔ بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مُسلح طالبان درجنوں گاڑیوں میں ایک جلوس کی شکل میں واپس شمالی وزیرستان میں داخل ہوگئے۔مقامی لوگوں کے مطابق جیل کے اطراف میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے سے صُبح تک فائرنگ ہوتی رہی لیکن اس کے باوجود طالبان کس طرح اپنے ٹھکانوں پر واپس پہنچ گئے، یہ بات پردہ ابہام میں ہے۔

مسلح دہشت گرد تنظیموں کے افراد کو سیکورٹی فورسز سے چھڑا کر لے جانے کے واقعات کم و بیش پاکستان میں ہوتے رہے ہیں۔ لہذا لوگوں کے لئے یہ تازہ واقعہ زیادہ حیران کن نہیں ہے۔

بنوں جیل سے طالبان قیدیوں اور دوسرے دہشت گردوں کو چھڑانے کی کاروائی کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں بتائی جاتی۔ پولیس حکام کے بقول ڈھائی تین سو کےقریب مسلح افراد نے حملہ کیا، اس موقع ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے ان جھڑپ ہوئی لیکن چونکہ حملہ آوروں کی تعداد سینکڑوں میں تھی لھذا سیکورٹی اہلکار ان کے سامنے نہیں ٹہر سکے اور حملہ آوروں کو اپنا کام دکھانے کا موقع مل گیا۔ اس سارے قضیئے میں حیران کن بات یہ ہے کہ دو ڈھائی سو مسلح افراد کس راستے سے آئے کہ کسی کو کانو کان خبر تک نہ ہوئی، اور پھر بحفاظت واپس چلے گئے اور اپنے ساتھ سینکڑوں قیدیوں اور خطرناک مجرموں کوبھی لےگئے یعنی، اتنی بڑی تعداد میں مسلح افراد کو آتے جاتے کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ بنابراین سنجیدہ حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس واقعے پر تشویش کے اظہار کے ضمن میں کالعدم تحریک طالبان کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی، حکومتی اداروں کی اس سے لاتعلقی اور بعض داخلی طاقتوں کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کو ملکی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا جانا، بجا اور درست اقدام معلوم ہوتا ہے۔ دوسری جانب طالبان دہشت گردوں کے افغان ونگ نے آج افغان دارالحکومت کابل میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت سمیت سات مقامات پر دہشت گردانہ حملے کیئے ہیں۔ طالبان افغانستان کے ہوں یا پاکستان کے، ان کو وجود میں لانے کا اصل مقصد  سامراجی اہداف کی تکمیل تھا۔

قبائلی رسم و رواج کے عادی اور حقیقی اسلامی تعلیمات سے عاری عرب شیوخ اور آل سعود کے پیسے اور ایجنسیوں کی نگرانی میں چلنے والے نام نہاد مدارس سے وابستہ طالبان کی شکل میں، امریکہ اور مغرب کے ہاتھ ایک ایسا گروہ  لگ تھا کہ جس کو، اس کی جہالت، لاعلمی، اور قومی و قبائلی تعصبات کی بناپر جب چاہے اور جہاں چاہے استعمال کیا جاسکتا تھا۔چنانچہ اپنے چند جانبہ مقاصد کی تکمیل کے لئے طالبان کو قندھار میں لاکر بیٹھا دیا گیا۔ پاکستان کی حکومت کے پیش نظر یہ تھا کہ طالبان کی شکل میں ایک کمزور اور نحیف حکومت کے ہوتے ہوئے، افغانستان اس کے کنٹرول میں رہے گا کہ جس کا وہ سابق وزیر داخلہ ریٹائرڈ جنرل نصیر اللہ بابر کے بقول سن 73 سے خواہشمند تھا یعنی وسطی ایشیا تک رسائی کا آسان اورسستا راستہ اور افغانستان میں اس کے روایتی حریف ہندوستان کے اثر رسوخ میں کمی، لیکن پاکستان کو ان دونوں مقاصد میں سے کسی ایک میں بھی کامیابی نہیں ہوئی بلکہ اس کو الٹا لینے کے دینے پڑگئے۔ البتہ امریکہ کوجومقاصد حاصل کرنے تھے، اس نے کم وبیش حاصل کئے۔

طالبان کو حقیقی اسلام کا نمائندہ قرار دے کر، ساری دنیا میں مسلمانوں کو بدنام کرایا اور اس حد تک بدنام کیا کہ اہل یورپ، اسلام اور دہشت گردی کو ایک ہی سمجھ بیٹھے۔ طالبان کو اتنی شہ دی کہ وہ ایران کی سرحدوں کو ناامن بنانے پر تل گئے اور یہ بھول گئے ایران، علاقے کی ایک بڑی فوجی طاقت یعنی صدام کو کہ جسے طالبان کی مانند امریکہ بھر پور حمایت حاصل تھی ناکوں چنے چبوائے بیٹھا ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دوایک عرب ملکوں نے بھی طالبان کی خوب حمایت اور پذیرائی کی لیکن دوسروں پر بھروسہ کرنے والوں کو رسوائی اور ہزیمت کے سوا اور کچھ نصیب نہیں ہوا۔چونکہ طالبان کی بنیاد بعض سامراجی اہداف و مقاصد کی تکمیل کے لئے رکھی گئی تھی لہذا آج صورتحال یہ ہے کہ اس گروہ کو وجود بخشنے والے، کہیں اس کی حمایت اور پشتپناہی کرتے ہیں تو کہیں ان پر گولے برساتے ہیں، کہیں وہ انہیں مذاکرات کی ترغیب دلاتے ہیں تو کہیں ان کو دہشت گردی پر اکساتے ہیں۔

یہی حال طالبانی فکر کی حامل دیگر تنظیموں اور گروہوں کا ہے که جنہیں باقاعدہ سامراجی اہداف و مقاصد کے لئے وجود بخشا گیا ہے۔ ایسی تمام تنظیموں اور گروہوں سے وابستہ افراد کو شروع میں تو یہ پتا نہیں چل پاتا کہ وہ کس کے لئے کام کر رہے ہیں لیکن جب ان کو پتا چلتا تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ ان کے کرتوں، غیر اخلاقی حرکتوں، اورغیر قانوی سر گرمیوں سے متلعق ریکارڈ ان کے آقاؤں کے پاس محفوظ ہوتا ہے جو ان کو مطیع و فر مانبردار بنائے رکھتا ہے۔ بہرحال آج طالبانی فکر کہ جس کا سرچشمہ مدینے اور مکہ پر قابض خاندان سعود ہے، عالم اسلام کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے اور اسلام کی ایک ایسی مسخ شدہ تصویر پیش کر رہی ہے کہ جس نے حتی انسانیت کو شرمسار کر کے رکھ دیا ہے۔
....... 
/169