14 اپریل 2012 - 19:30

طارق ہاشمی کے ترکی میں موجود ہونے اور نہ ہونے کی خبریں اور حال ہی میں ترکی کے وزیر اعظم اردوغان سے اس کی ملاقات کی خبریں آنے سے علاقے کے بعض ذرائع ابلاغ میں اب بھی بحث و جدال جاری ہے۔

ابنا: ترکی کے بعض ذرائع ابلاغ منجملہ ٹی، آر،ٹی ویب سائٹ نے طارق ہاشمی اور اردوغان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں خبر نشر کی ہے۔حالانکہ ترکی کے بعض ذرائع ابلاغ نے اس طرح کی خبروں کی تردید کی ہے۔

اس خبر کی اہمیت کی بناء پر بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ طارق ہاشمی کے ترکی جانے کی وجہ سے ترکی اور عراق کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہوسکتی ہے۔

طارق ہاشمی کے ترکی کے سفرکی بنا پر عراقی حکام کی حساسیت اس بات کا سبب بنی ہے کہ ترکی کے حکام صحیح بیان دینے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ رپورٹوں میں ہے کہ اردوغان کا کہنا ہے کہ طارق ہاشمی نے اپنی انکھ کے علاج کے لئے ترکی کا سفرکیا ہے۔

یہ ایسے وقت ہے جب کہ عراق کے صدر "جلال طالبانی" کے دفتر نے پانچ اپریل کو اعلان کیا تھا کہ طارق ہاشمی نےطالبانی کی موافقت کے بغیر عراق کے کردستان علاقے سے فرار کیا تھا۔

طارق ہاشمی جن پر عراق میں کم از کم ڈیڑھ سودہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور عراق کی عدلیہ نے اس کی گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا ہے اگر چہ وہ ان الزامات کی تردید کررہا ہے لیکن عراقی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک طارق ہاشمی پر لگے الزامات کا صحیح فیصلہ نہیں ہوجاتا ترکی اوردیگر تمام ممالک کو چاہیے کہ اس کو اپنے ملک میں پناہ دینے سے پرہیز کریں۔

ترکی حکومت جس نے ہمیشہ دہشتگردی سے مقابلے کا دعوی کیا ہے اور پی ،کے ،کے،(pkk) کی دہشگردی سےبہت رنج و مصیتیں برداشت کی ہیں اس بنا پر علاقے کے بہت سے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ نے ترکی میں طارق ہاشمی کی موجودگی کو خطرناک قرار دیا ہے۔

شاید عراق کے قومی سلامتی وزير " فالح فیاض" کا ترکی کا دورہ اسی لئے قابل تامل ہے اور اسی کے ساتھ حال ہی میں عراق اور ترکی کے اعلی حکام کے درمیان شدید لفظي جنگیں ہوئی ہیں۔

کچھ دنوں پہلے عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے ترکی کی حکومت کو عراق کے داخلی امور میں مداخلت کرنےیہاں تک کہ اس پر علاقے کو غربت میں ڈھکیلنے تک کا الزام لگایا تھا مالکی کے الزامات اور اردوغان کے جواب کی وجہ سے انقرہ اور بغداد کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

بعض اخباروں میں نشر ہونے والی حالیہ خبروں منجملہ ترکی کے" تودی زمان" نامی اخبار کی رپورٹوں کی بنا پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔.....

/169