13 اپریل 2012 - 19:30

سعودي عرب کے حمايت يافتہ بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے ايک بار پھر حکومت مخالف مظاہرين کو اپنے حملوں اور تشدد کا نشانہ بنايا ہے-

ابنا: سعودي عرب کے حمايت يافتہ بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے حکومت مخالفين مظاہرين پر اس وقت حملہ کرديا جب وہ منامہ کے نواحي علاقے ميں ايک صحافي کے جلوس جنازہ ميں شريک تھے-

مذکورہ صحافي کے بارے ميں کہا جارہا ہے کہ اسے سعودي عرب کے حمايت يافتہ بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے  تيس مارچ کو اس وقت گولياں مار کر شہيد کرديا تھا جب منامہ کے نواحي گاؤں ميں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کي کوريج کر رہا تھا-

صحافي کا جلوس جنازہ شاہي حکومت کے خلاف مظاہروں ميں تبديل ہوگيا اور لوگوں نے آل خليفہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے- مظاہرين شاہي حکومت کے خاتمے اور سياسي قيديوں کي رہائي کا مطالبہ کر رہے تھے-

انساني حقوق کي عالمي تنظيم ايمنسٹي انٹر نيشنل نے مظاہرين کے خلاف بحريني سيکورٹي فورس کے بے جا تشدد اور مجرمانہ اقدامات کي تحقيقات کرانے کا مطالبہ کيا ہے- پرامن مظاہرين کے خلاف سيکورٹي فورس کے پرتشدد اقدامات کے باوجود بحريني عوام سعودي عرب کي حمايت يافتہ شاہي حکومت کے خلاف ملک گير سطح پر پر امن مظاہرے کرتے چلے آرہے ہيں-

چودہ فروري دوہزار گيارہ جاري عوامي انقلابي تحريک کے دوران اب تک سيکڑوں بحريني شہري شہيد اور زخمي ہوچکے ہيں جبکہ ہزاروں کي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے-

بحريني عوام ملک کے بادشاہ کو پرامن مظاہروں کے دوران شہيد ہونے والے بحريني شہريوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دے رہے ہيں_

.......

/169