ابنا: سعید جلیلی نے تہران میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا تینتیس سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں جو چیز سود مند ثابت ہوسکتی ہے وہ تعاون اور مذاکرات کی پالیسی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ گروپ پانچ جمع ایک بھی اسی روش کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوگا تاکہ مذاکرات کا نیا دور نتیجہ خیزثابت ہو اور ملت ایران کا اعتماد اس کو حاصل ہوسکے۔پروگرام کے مطابق ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان نئے دور کے مذاکرات کا پہلا مرحلہ چودہ اپریل کو ترکی کے شہر استنبول میں انجام پائے گا۔سیاسی ماہرین کے مطابق ان مذاکرات کا موجودہ ماحول جنوری سنہ دو ہزار گيارہ میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے ماحول سے مختلف ہے لیکن ماحول کا مختلف ہونا ایران کے موقف میں تبدیلی کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ ان حقائق کی وجہ سے ہے جن کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ مغرب نے گزشتہ ایک سال میں ان کو درک کرلیا ہوگا۔
جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے ایران ایک سال قبل بھی استنبول اجلاس کے مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے تیار تھا لیکن مغرب نے موقع سے استفادہ نہ کرتے ہوئے تعمیری مذاکرات کو معطل کردیا۔بعض سیاسی ماہرین نے کہا ہے کہ اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ مغرب ان مذاکرات میں بھی غیر منطقی مطالبات کرے اور ایران کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کرے اور اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغرب تعمیری مذاکرات کے لئے سنجیدہ ارادہ اور دلچسپی نہیں رکھتا البتہ تجربہ سے یہ ثابت ہے کہ تعمیری مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ایران کے خلاف پابندیوں اور دباؤ میں اضافہ غلط اور ناکام پالیسی ہے جس سے خود مغرب کے لئے بھی سنگین مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس طرح کہ اقتصادی پابندیاں ، خاص طور سے ، ایران سے تیل درآمد کرنے پر پابندی کا اقدام امریکہ ، یورپ اور ایشیائي ممالک کے لئے ایک سنگين بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔
بہر حال ، تعمیری مذاکرات کے لئے پالیسیوں میں شفافیت اور قبول شدہ بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق اقدام کرنا ضروری ہے کہ جن پر جامع اور غیر امتیازی عمل درآمد یقینی طور پر تمام ممالک کے لئے مفید ثابت ہوگا۔بہر حال ، ایٹمی معاملے میں این پی ٹی معاہدہ کے مطابق منطقی مذاکرات پر ایران کی تاکید ہے لیکن واضح سی بات ہے کہ اس طرح کے مذاکرات اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں جب ان میں پیش کی گئيں تجاویز باہمی حقوق کی رو سے صحیح ہوں۔مجموعی طور پر اگرچہ ایران اور گروپ اور پانچ جمع ایک کے اجلاس کے بارے میں بہت سی باتیں کی جارہی ہیں لیکن ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سکریٹری سعید جلیلی نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ایرانی نمائندے استنبول اجلاس میں نئي تجاویز کے ساتھ شرکت کریں گے اور امید کی جاتی ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ممالک تعمیری رویہ کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
.......
/169