10 اپریل 2012 - 19:30

واشنگٹن میں آج گروپ آٹھ کے وزراۓ خارجہ کا اجلاس بلایا جارہا ہے جس میں عالمی چیلنجز ، خطرات ، دہشتگردی ، عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ نیز علاقائی اختلافات جیسے مختلف مسائل کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس اجلاس میں شام ، فلسطین اور صہیونی ریاست کے حالات کا بھی جائزہ لیا جانا ہے۔

ابنا: یہ اجلاس درحقیقت اٹھارہ اور انیس مئی کو ہونے والے جی ایٹ کے سربراہی اجلاس کا پیش خیمہ ہے ۔ واضح رہے کہ امریکہ ، روس ، برطانیہ ، کینیڈا ، فرانس ، جرمنی ، اٹلی اور جاپان جی ایٹ کے رکن ممالک ہیں۔ اس سلسلے میں قابل توجہ مسئلہ شام کے بحران سے نمٹنے کی نوعیت سے متعلق روس اور اس گروپ کے دوسرے اراکین کے درمیان پایا جانے والا شدید اختلاف ہے۔ جی ایٹ کے رکن ممالک کے درمیان دوسرا متنازعہ مسئلہ یورپ میں میزائل شیلڈ کی تنصیب ہے۔ روس یورپ میں امریکہ کی جانب سے اس میزائل شیلڈ کی تنصیب کی کوشش کو اپنی قومی سلامتی کے لۓ خطرہ قرار دیتا ہے۔

واشنگٹن اور بخارسٹ کے درمیان رواں مہینے میں رومانیہ میں اس میزائل شیلڈ کے بعض حصوں کی تنصیب کے بارے میں سمجھوتہ ہوا ہے۔ ماسکو اس بات کی قانونی ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ میزائل شیلڈ کو اس کے خلاف استعمال نہیں کیا جاۓ گا۔ مدودوف نے اس سے قبل انتباہ دیا تھا کہ اگر اس منصوبے کے سلسلے میں روس کے ساتھ تعاون نہ کیا گیا تو ہتھیار کی ڈور کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوجاۓ گا۔ لیکن اس کے باوجود ایسا نظر نہیں آتا ہے کہ دونوں ممالک اس اجلاس کے دوران باہمی مذاکرات کے ذریعے مطلوبہ نتیجہ حاصل کرپاۓ ہوں۔

اس اجلاس میں ایک اور متنازعہ معاملہ عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کی نوعیت سے متعلق ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ اس اجلاس کے موقع پر متعدد شخصیات سے ملاقاتیں کریں گی جن میں سے روس کے وزیر خارجہ سرگئي لاوروف سے ان کی ملاقات کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ مجموعی طور پر ایسا نظر آتا ہے کہ مختلف مسائل کے سلسلے میں گروپ آٹھ کے اراکین کے درمیان پاۓ جانے والے اختلافات کے پیش نظر اس قسم کے اجلاسوں کے نتیجہ خيز ہونے کی توقع نہیں رکھی جاسکتی کیونکہ یہ اختلافات اس قدر شدید ہیں کہ اس طرح کے اجلاسوں کے موقع پر کی جانے والی باہمی ملاقاتوں کے ذریعے ان کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ........

/169