2۔ حضرت ابوطالب علیہ السلام کا کمسن بھتیجے سے توسل
دوسری حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بچپن کےایام سے متعلق ہے، جب حضرت ابوطالب علیہ السلام نے آپ (ص) سے توسل کیا۔ کچھ یوں ہے کہ ابن عساکر فتح الباری میں روایت کرتے ہیں:
مکہ میں خشکسالی پڑی تو قریش حضرت ابوطالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: دشت و صحرا سوکھ گئے ہیں، قحط نے سب کچھ تہہ و بالا کردیا ہے، ہمارے ساتھ آئیں تاکہ مل کر بارگاہ خداوندی سے بارش کی دعا کریں:
ابوطالب علیہ السلام روانہ ہوئے جبکہ ایک بچہ بھی آپ (ع) کے ساتھ تھا (بچے سے مراد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات بابرکات ہے، جو ابھی طفل تھے) اس طفل کا چہرہ آفتاب کی مانند دمک رہا تھا؛ ابوطالب علیہ السلام نے آپ (ص) کو آغوش میں لیا ہوا تھا اور اسی حال میں اپنی پیٹھ دیوار کعبہ سے لگا لی اور اسی طفل سے توسل کیا ـ جبکہ آسمان پر بادلوں کا نام و نشان تک نہ تھا ـ یکایک آسان پر ہر طرف سے بادل امڈ آئے اور ایک دوسرے سے متصل ہوئے اور ایسی بارش برسی کہ دشت و صحرا سرسبز و شاداب ہوئے؛ اور ابوطالب علیہ السلام نے اسی مناسبت سے ایک قصیدہ کہا جس کا ایک شعر یہ تھا:
و أبيض يستسقي الغمام بوجهه ٭٭٭ ثمال اليتامى عصمة للأرامل (10)
ترجمہ: پروردگار عالم سے اس درخشندہ چہرے والے آبرومند کے رخ زیبا کے واسطے بارش طلب کی جاتی ہے۔ اور جو يتيموں كى پناہگاہ اور بيواؤں كا والى و وارث ہے۔
٭٭٭
3۔ نابینا مرد کا رسول اللہ (ص) سے توسل
ایک نابینا مرد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور رسالت میں آپ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (ص) سے توسل کیا اور شفایاب ہوکر ایک بار پھر بصارت و بینائی کی نعمت سے بہرہ مند ہوا۔ یہ روایت صحیح ترمذی، سنن ابن ماجہ قزوینی، مسند احمد بن حنبل اور دیگر کتب میں نقل ہوئی ہے۔ (11) چنانچہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے اہم ہے۔
حدیث کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
ایک اندھا مرد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے رسول خدا (ص)! خدا کی بارگاہ میں دعا فرمائیں کہ مجھے شفا دے اور مجھے میری آنکھیں لوٹا دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کرتا ہوں اور اگر چاہو تو صبر کرو (کہ شاید تمہاری مصلحت اسی میں ہو) لیکن مگر بوڑھے شخص نے اپنی درخواست پر اصرار کیا۔
آنحضرت (ص) نے اس شخص کو حکم دیا کہ جاکر مکمل وضو کرے اور دو رکعت نماز ادا کرے اور نماز کے بعد یہ دعا کرے:
"اَللّهم إنّي اسئَلُكَ و أتوجّه إليك بنبيك محمّد نبي الرحمة يا محمّد إنّي أتوجّه بك إلى ربّي في حاجتي لتُقضى، اللهم شَفِّعه فيَّ"۔
ترجمہ: بار الہا! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں اور تیری طرف رخ کرتا ہوں تیرے نبی (ص) کے واسطے، جو پیغمبر رحمت ہیں، اے محمد (ص)، میں آپ کے واسطے سے اپنی حاجت میں، اپنے پروردگار کی جانب متوجہ ہوتا ہوں، تا کہ میری حاجت برآئے۔ خداوندا! تو محمد (ص) کو میرا شفیع قرار دے۔
نابینا مرد امر رسالت کی تعمیل کے لئے چلا گیا کہ وضو کرے، نماز پڑھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا سکھایا ہوا عمل انجام دے۔
اس حدیث کے راوی "عثمان بن عمیر" کہتے ہیں:
ہم اسی مجلس میں بیٹھے تھے اور آپس میں گفتگو کررہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ نابینا مرد ہماری مجلس میں داخل ہوا جبکہ اس کی آنکھوں میں نابینائی کا اثر تک دکھائی نہیں دے رہا تھا؛ اور اس کی آنکھیں روشن ہوچکی تھیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بہت سے اکابرین اہل سنت نے تأکید کی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے؛ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے؛ ابن ماجہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے؛ رفاعی نے کہا ہے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہيں ہے کہ یہ حدیث صحیح اور مشہور ہے۔ (12)
4۔ رسول اللہ (ص) سے توسل آپ (ص) کے وصال کے بعد
الدارمی نے اپی مشہور کتاب "سنن الدارمی" کے ایک مستقل باب "باب ما حكم الله تعالى نبيه (صلى الله عليه و آله) بعد موته" (یہ باب ان کرامات و احترامات کے بارے میں ہے جو اللہ تعالی نے رسول اللہ (ص) کے وصال کے بعد آپ (ص) کے حق میں روا رکھے ہیں)۔ میں کہتے ہیں:
مدینہ میں قحط پڑا اور لوگوں کی ایک جماعت ام المؤمنین عائشہ کے گھر پر حاضر ہوئی اور چارہ جوئی کی درخواست کی۔
عائشہ نے کہا: جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر شریف کے اوپر چھت میں سوراخ کردو (())، یہاں تک کہ نیچے سے آسمان دکھائی دے اور نتیجے کا انتظار کرو۔
لوگوں نے جاکر چھت میں ایک سوراخ بنایا جس سے آسمان نظر آرہا تھا، اس کے بعد موسلادھار بارشیں ہوئیں، دشت و دمن سرسبز و شاداب ہوئے اور اونٹ موٹے تازہ ہوگئے۔ (13)
٭٭٭
5۔ رسول اللہ (ص) کے چچا عباس سے توسل
بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ ایک دفہ مدینہ میں قحط پڑا تو عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا عباس سے توسل کرک اللہ تعالی سے بارش کی التجا کی؛ دعا کی عبارت کچھ یوں تھی:
"اللّهم إنّا كنّا نتوسّل إليك بنبيّنا وتسقينا و إنّا نتوسّل إليك بعمّ نبيّنا فاسقنا"۔
ترجمہ: ہم تیری بارگاہ میں تیرے نبی (ص) کو وسیلہ قرار دیتے اور آپ (ص) سے توسل کیا کرتے تھے اور تو ہمارے لئے بارش برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا سے توسل کرتے ہیں، پس تو ہمارے لئے بارش برسا۔
راوی کہتا ہے کہ اس دعا کے بعد خوب خوب بارش ہوئی۔ (14)
٭٭٭
6۔ امام شافعی کا اہل بیت علیہم السلام سے توسل
ابن حجر مکی نے "صواعق المحرقہ" میں اہل سنت کے مشہور امام محمد بن ادریس شافعی سے روایت کی ہے کہ وہ اہل بیت علیہم السلام سے توسل کیا کرتے تھے اور پھر ان کے ان اشعار سے استناد کرتے ہیں:
آل النبى ذريعتى ٭٭٭ و هم اليه وسيلتى
ارجوا بهم اعطى غداً ٭٭٭ بيد اليمين صحيفتى
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خاندان میرا ذریعہ ہے