ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے سانحہ چلاس کے شہدا ء کی نعشیں ان کے علاقوں میں منتقل نہ کرنے ، اس سانحہ کے دوران لاپتہ ہونے والے مسافروں کی عدم بازیابی اور گلگت میں مسلسل کرفیو کے نفاذ کے خلاف ملک گیر احتجاجی دھرنے دینے کا اعلان کر دیا گیاہے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے بتایا ہے کہ آج ملک کے تمام بڑے شہروں میں دوپہر دو بجے تا رات اہم شاہراہوں پر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا جبکہ جمعرات کومرکزی امام بارگاہ اثنا عشریہ G.6/2 تا پارلیمنٹ ہاوس خواتین اور بچوں کی احتجاجی ریلی نکالی جائے گی ،جبکہ جمعہ کے روز راولپنڈی اسلام آباد کے شہر ی پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے پریڈ گراونڈ میں اجتماعی نماز جمعہ ادا کریں گے، انہوں نے بتایا کہ سانحہ چلاس کے دوران شہید ہونے والے 23 افراد میں بیشتر کی نعشیں ابھی تک ان کے علاقوں میں منتقل نہیں کی گئیں،اس سانحہ کے دوران لاپتہ ہونے والے 62مسافروںکو ابھی تک بازیافت نہیں کیا ، گلگت میں ابھی تک کرفیو نافذ ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ، جبکہ حکمرانوں نے متاثرہ فریق کو انصاف مہیا کرنے کی بجائے بیلنسنگ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے گزشتہ چار دنوں سے سانحہ چلاس اور گلگت میں بد امنی کے خلاف دھرنا جاری ہے ، اس دوران حکومت کو گلگت میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سات نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ دیا گیاتھا لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا جس کی وجہ سے ہمیں مجبوراً احتجاج کا دائرہ وسیع کرنا پڑا ۔.......
/169