7 اپریل 2012 - 19:30

اطلاعات کے مطابق سانحہ چلاس میں شھید ہونے والے مسافروں کی تعداد نو سے زیادہ ہوسکتی ھے۔ جسے چھپانے کے لئے انتظامیہ نے مواصلاتی نظام کو بند کر کے قوم کو نفسیاتی جنگ میں مبتلا کرنا چاھا ھے۔ انٹرنیٹ، ٹیلی فونز اور زمینی راستوں کو بند کرنا دراصل حقائق کو چھپانے اور عوام کو بے خبر رکھنے کی ایک نئی سازش ھے۔جبکہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں کرفیو کے نفاذ اور فوج کے دخول سے یہ بات ثابت ہوتی ھے کہ انتظامیہ کسی بڑی خبر کو چھپانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

ابنا: گلگت بلتستان کے حالات کے متعلق مختلف تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ھے کہ درجنوں عزادار جو لاپتہ ہیں انکی اکثریت شھید ہوچکی ہیں۔ جبکہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد عزادار پولیس کی زیر حراست ھے جبکہ اندیشہ ھے کہ اس سے زیادہ بھی گرفتار ہوسکتے ہیں۔

گلگت بلتستان کی عوام جنکی رگوں میں محبت اھلبیت اور حب الوطنی کا چراغ قیام پاکستان سے ہی روشن ہیں۔ ان وفا پرست افراد کے ساتھ آج انتظامیہ کا متعصبانہ رویہ انتظامیہ کی کارگردگی پر ایک سوالیہ نشان ھے۔ افسوس کے سفاک قاتل تو آج گلگت مین آزاد پھر رھے ہیں مگر مظلوم محبان اھلبیت کے لئے طرح طرح کی مشکلات کھڑی کر کے حسینیوں کے صبر کا امتحان لیا جارھا ھے۔ افسوس کہ ابھی تو سانحہ کوھستان کے مسافروں کی شہادت کا زخم تازہ تھا کہ یزیدیوں نے چلاس کے مقام پر مزید شیعان علی کو خاک اور خون میں غلطاں کر کے پاک سرزمین کو حسینیوں کے لہو سے رنگین کیا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق کچھ موبائل نیٹورک کو فی الحال بحال کر دیا گیا ھے۔ جبکہ اسلام آباد سمیت پورے پاکستان میں احتجاج اور ریلیوں کی صورت میں گلگت کی عوام سے اظہار ھمدردی کا سلسہ جاری ھے۔.....

/169