ابنا: آل سعود کی حکومت نے کہا ہے کہ ایسے سرکاری ملازم جنہیں حکومت مخالف بیان جاری کرتے یا بانٹنے ہوئے پکڑا جائے گا ملازمت سے برخواست کردئے جائيں گے۔ یادرہے آل سعود کو یہ خوف لاحق ہے کہ وہ عوامی تحریک کے نتیجے میں عرب ملکوں کے بعض ڈکٹیٹروں کے انجام کو نہ پہنچ جائے اسی بنا پر آل سعود کے کارندے بڑے وحشیانہ طریقے سے عوامی تحریک کو کچل رہے ہیں۔
ادھر اطلاعات ہیں کہ سعودی کارندوں نے مشرقی شہر الخبر میں ایک مسجد شہید کردی ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کے کارندوں نے الخبر کے ثقبہ محلے میں اسماعیلی فرقے کی ایک مسجد کو مسمار کردیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اسماعیلی رہنماؤں نے سعودی ولی عھد نایف بن عبدالعزیز کو مسجد کی مسماری کا ذمہ دار قراردیا ہے۔ اسماعیلی فرقے کے افراد نے نماز جمعہ کے وقت مسجد کی مسماری پر احتجاج کیا تھا جن میں سے دسیوں افراد کوگرفتار کرلیا گيا ہے۔ دینی اور سماجی شخصیتوں نے آل سعود کے کارندوں کے اس گھناؤنے اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سعودی حکومت کو ان اقدامات کے خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ادھر سعودی عرب میں حزب امت اسلامی کے رکن نے آل سعود سے کہا ہے کہ عوام کو ان کے سلب شدہ حقوق دینے کے لئے اقتدار سے ہٹ جائے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق شیخ محمد بن غانم القحطانی نے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت غیر قانونی ہے اور آل سعود کی لوٹ کھسوٹ پر کسی طرح کی کوئي نگرانی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے حالات کو بحرانی ہونے سے روکنے کے لئے آل سعود کو اقتدار سے ہٹ جانا چاہیے۔ شیخ قحطانی نے کہا کہ ملک پر ایک خاندان کی اجارہ داری نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کی کہ سعودی عرب میں تبدیلیوں کا مطالبہ شروع ہوچکا ہے اور کوئي طاقت عوامی انقلاب کے سامنے نہیں ٹہرسکتی گرچہ وہ تشدد اور طاقت ہی کا استعمال کیوں نہ کرے
قابل ذکرہے سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں اسی زمانے سے مظاہرے ہورہے ہیں جب سے عرب ملکوں میں اسلامی بیداری کی تحریک شروع ہوئي تھی۔ سعودی عرب کے باشندوں کا کہنا ہے کہ ان کےساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں شہری اور قانونی حقوق سے محروم کردیا گيا ہے۔ .......
/169