4 اپریل 2012 - 19:30

چلاس میں شہید کیے گئے درجنوں بے گناہ مسافروں میں سے اکثر کا تعلق بلتستان سے ہے اور ان میں دو ایسے شہید بھی ہیں جو آپس میں سگے بھائی ہیں ۔

کل جب یہ خبر پھیلی تھی تو سکردو شہر سوگ میں بند ہوا اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا لیکن یہ احتجاج غیر منظم اور بغیر کسی لایحہ عمل کے شروع ہوا تھا جسے ہم فوری عوامی رد عمل کہہ سکتے ہیں آج جبکہ اس سانحے کا دوسرا دن ہے اور صورت حال کچھ واضح بھی ہوچکی ہے مگر پھر بھی سکردو میں مرکزی قیادت کے فقدان اور عدم رہنمائی کے سبب ایک افراتفری کا عالم ہے جس کی سمجھ میں جو آئے وہ انجام دے رہا ہے کہیں کسی چوک پر دھرنا تو کہیں ریلیاں تو کہیں عوام کی ایک بڑی تعداد گلگت کی جانب لانگ مارچ شروع کر چکی ہے اس تمام تر صورت حال میں جو اہم ترین نکتہ ہے وہ مرکزیت کا فقدان نظر آتا ہے جو ایسے بحرانوں کو فرصتوں میں بدلے عوام کو درست سمت دے جو اس وقت سکردو بلکہ پورے بلتستان میں کہیں نظر نہیں آتا۔ایسے حالات میں اللہ جانے کہ کیا ہوگا دوسری جانب افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ایسے کٹھن حالات میں نوڈیرو سندھ میں صدر زرداری کے پاس اپنے نمبر بنانے گیا ہوا ہے. اس تمام تر صورت حال میں کسی بھی قسم کے حالات کی توقع کی جاسکتی ہے کیونکہ عوام مکمل طور پر بے یار ومددگار ہے ۔گلگت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فوج شہر میں موجود ہے لیکن اطراف کے علاقوں میں اب بھی دہشت گردوں کا راج ہے جس کے سبب گذشتہ رات سلطان آباد کے علاقے میں ایک اور بے گناہ شہید کیا گیا، پی آئی اے کی پرواز گذشتہ چار دن کی ہڑتال کے بعد آج پہلی دفعہ پرواز کرچکی ہے ۔گلگت بلتستان کے زمینی راستے کے کٹنے کے سبب اشیاء خوردنوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ نظر آنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ممکنہ صورت حال کے پیش نظر مارکیٹ میں صارفین کا ہجوم بھی بڑھ چکا ہے ۔باخبر افراد کا کہنا ہے کہ تمام تر صورت حال کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کو ایک سوچے منصوبے کے تحت اٹھاسی کے حالات کی جانب دھکیلا جارہا ہے جہاں اس خطے پر اس وقت کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی آرمی کی سرپرستی میں اس علاقے پر لشکر کشی کی گئی تھیاس وقت کی اطلاعات کے مطابق چلاس اور اس کے ملحقہ علاقے پٹن داریل، کوہستان یہاں تک کہ مانسہرہ اور سوات سے چلو چلو جہاد کے لئے چلو کے نعرے سنائی دے رہے ہیں جبکہ گذشتہ رات دیامر استور میں چلاس سے چار گاڑیاں بھر کر عسکریت پسندوں کو عوام نے پکڑکر پولیس کے حوالے کیا جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ان سطروں کے لکھنے تک جو اطلاعات سکردو شہر سے موصول ہورہیں ہیں اس کے مطابق سکردو شہر میں افراتفری کا سماں قائم ہے جبکہ مختلف افراد ذمہ دار وں سے رابطے کی کوشش میں لگے ہیں، کہا جاتا ہے کہ عوام مقامی مرکز کے مصلحت آمیز رویوں کے سبب نالاں ہے۔........./110