4 اپریل 2012 - 19:30

سعودی عرب کے عوام نے اپنے ملک کے مشرقی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کرکے اپنے بنیادی ۔

ابنا: مسلمہ اور جائز حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیاہے ۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان مظاہروں میں سعودی شہریوں نے مذہبی و اقتصادی امتیازی سلوک کے خاتمے ۔ اصلاحات کے نفاذ ۔ آزادی بیان ۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بحرین کے حکومت مخالفین کی سرکوبی میں سعودی عرب کی شمولیت سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ مشرقی سعودی عرب کے مختلف علاقوں کے عوام منجملہ القطیف ۔ عوامیہ ۔ ربیعہ ۔ اور سیہات کے شہریوں نے ان مظاہروں میں اپنے ملک کی آل سعود حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اس حکومت کے سرکوب گرانہ اقدامات کی مذمت کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں کے شرکاء نے اسی طرح اپنے ملک کی ایک سرگرم عمل سیاسی شخصیت محمد صالح الزنادی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا جنھیں سعودی فوجیوں نے گذشتہ ہفتے گرفتار کرلیا۔ انھیں چند روز قبل آل سعود کی فوجیوں نے احتجاجی مظاہرے کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنایا کہ جس میں وہ زخمی ہوئے اور پھر انھیں اسپتال سے گرفتار کرلیا۔ سعودی عرب میں خاص طور سے اس ملک کے مشرقی علاقوں میں آل سعود حکومت اور خاندان کے خلاف ان احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ ایک امریکی ماہر علی الاحمد نے سعودی عرب کی صورت حال ابتر ہونے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود حکام کو اپنے ملک کے عوام کے اشتعال اور غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سعودی عرب کے مسائل کے اس ماہر نے واشنگٹن میں پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عوام کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ان مظاہروں کا دائرہ روز بروز دیگر علاقوں تک پھیلتا جارہا ہے۔ اس امریکی ماہر نے کہا کہ سعودی عوام شدید مصائب و آلام برداشت کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ آل سعود حکومت کے خلاف نیز اپنے جائز مطالبات کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ علی الاحمد نے کہا کہ سعودی عرب کے ان علاقوں میں کہ جہاں اس ملک کے عوام احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں بے روزگاری بہت زیادہ ہے اور حکومت سے وابستہ عوام کی ایک تعداد مال و ثروت سے مالا مال ہے۔ اس امریکی ماہر نے کہا کہ سعودی عوام میں سماجی عدم مساوات اور طبقاتی فاصلہ بہت زیادہ ہے جس کی بناء پر سعودی عرب،آل سعود حکومت کے خلاف عوامی تشدد کے انفجار کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی طرح النخیل خبری ذریعے نے سعودی عرب میں غربت۔ مسائل و مشکلات اور دھماکہ خیز صورت حال کے زیر عنواں ایکرپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ سعودی حکومت اپنے ملک کے عوام کے مطالبات کی حمایت اور ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کے بجائے عوام کو سرکوب کررہی ہے ۔سعودی عرب کے پریس ذرائع نے بھی غربت۔ بے روزگاری ۔ اور امتیازی سلوک کو اپنے ملک میں بدامنی کے عوامل سے تعبیر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی بھاری آمدنی کے باوجود اس ملک میں ہمیشہ معاشی بدحالی کے خلاف عوام کے احتجاج کا مشاہدہ کیا جاتا رہا ہے۔ روزگار کی تلاش کے بیات نامی مرکز کی تحقیقات کے مطابق جو مشرق وسطی کا سب سے بڑا مرکز ہے سعودی عرب میں گیارہ لاکھہ چوبیس ہزار سے زائد افراد بے روزگار ہیں اور اس تعداد میں بدستور اضافہ ہوتا جارہا ہے یہ ایسی حالت میں ہے کہ 2011 میں اس ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بناء پر تقریبا سات فیصد رہی ہے ۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے شاہ اس وقت ایک ایسے موڑ پر جاکھڑے ہوئے ہیں کہ جہاں انھیں اپنے ملک میں سیاسی اصلاحات اور یا عوامی اشتعال میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑسکتا ہے۔ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام مطالبات کے جواب کیلئے ایسے بنیادی آئین کی تدوین کا عمل ایجنڈے میں شامل کیا جاسکتا ہے جو شاہی خاندان کے لا محدود اختیارات کو محدود اور خاندانی شاہی جانشینی روک سکے اور اسی طرح منتخب پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آسکے نیز ملک میں کھلے سیاسی ماحول کیلئے حالات سازگار بن سکیں........ /169