1 اپریل 2012 - 19:30

ایسےعالم میں جب ایران اور گروپ پانچ جمع ایک مذاکرات شروع کرنےکےلئے ایک دوسرےسےقریب آرہے ہیں، امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نےاوبامہ کےبیانات کودہراتےہوئے کہاہےکہ سفارتکاری کی کھڑکی ہمیشہ کےلئےنہيں کھلی رہےگی۔

ابنا: امریکی وزیرخارجہ نے برطانیہ سےشائع ہونےوالےروزنامہ گارڈین میں اپنے حالیہ انٹرویو میں دعوی کیاہے کہ امریکہ کامقصد ایران کےایٹمی پروگرام کےسلسلےمیں عالمی برادری کی تشویش دور کرناہے ۔کلنٹن نے ایران کےایٹمی پروگرام کےبارےمیں مغرب کےمبہم دعوے کودہراتےہوئے مذاکرات کےنتائج کےبارےمیں شکوک وشبہات کااظہارکیااور کہاکہ امریکہ مذاکرات سےواضح نتائج حاصل کرناچاہتاہے۔ امریکی وزیرخارجہ نےایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات سےواضح نتائج کےزیرعنوان جوبات کی ہے وہ امریکہ کی اسی غیرمنطقی پالیسی کی تکرارہے جووہ ایران کواس کےجائزایٹمی حق سےپیچھےہٹانےکےلئےاختیارکئےہوئےہے، ایک ایساموضوع جس کاجواب امریکہ کوپہلےسےہی معلوم ہے۔جیساکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں ایران کےمستقل نمائندے علی اصغرسلطانیہ نےفاکس نیوزکوانٹرویومیں کہاتہران یورےنیم کی افزودگی کاسلسلہ ہرگزبند نہيں کرےگا ۔ کیونکہ ایران کےایٹمی پروگرام میں کوئي انحراف نہيں ہے اور ایران اپنےایٹمی بجلی گھر اور ایٹمی ری ایکٹر کےایندھن کےلئےان پی ٹی معاہدے کےمطابق ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں یورےنیم کی افزودگی کاسلسلہ جاری رکھےہوئےہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کامقصدکچہ اور ہے جووہ ایران سےخوف زدہ کرکے حاصل کرناچاہتاہے اوراسی وجہ سے ہیلری کلنٹن نےاپنےبیانات کےدوسرےحصےمیں خلیج فارس کےممالک کےسربراہوں سےمطالبہ کیاکہ وہ ایران کےمیزائلی نظام کےسامنے بقول ان کے ایک ہماہنگ دفاعی اسٹریٹیجک تیارکریں۔ ہیلری کلنٹن نےکہاکہ امریکہ اورخلیج فارس کےممالک کی فوجوں کوچاہئےکہ وہ بحری سیکورٹی کےلئے ایک دوسرےکےساتھ تعاون کریں۔جبکہ امریکہ ،گذشتہ دس برسوں کےدوران سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سمیت علاقےکےعرب ممالک کو سیکڑوارب ڈالرمالیت کےاسلحے بیچ کر خلیج فارس کےرکن ممالک ميں بحران پیداکرنےکی کوشش کرتارہا ہے۔سیاسی ماہرین مغرب کےموجودہ اقتصادی بحران اور اوبامہ کی ناکام مشرق وسطی پالیسی کوکامیاب قراردینے کی کوشش کےتناظرمیں اس صورت حال کےتسلسل کونہایت اہم سمجھ رہے ہیں۔ ماہرین کاخیال ہےکہ ہیلری کلنٹن کےبیانات سےبھی یہی پتہ چلتاہےکہ امریکہ کو ایران پردباؤ ڈالنے کےلئےکوئي راستہ نظرنہيں آرہا ہے اسی وجہ سےوہ ایران سےخوف زدہ کرنے کی اپنی کمزورپالیسی کےسہارے خلیج فارس کےعرب ممالک کوایران کےمدمقابل کھڑا کرناچاہتاہے۔ امریکہ ایران پرالزام تراشی کی پالیسی اختیارکرکے،ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کوخطرہ بنا کرپیش کرکے اور اس سےقبل امریکہ میں سعودی سفیر کوقتل کرنے کی کوشش کاالزام لگاکر ایران اورعرب ممالک کےتعلقات خراب کرنےکی کوشش کررہا ہے ۔ دوسرےلفظوں میں امریکہ برسوں سے سعودی عرب کی مرکزیت ميں علاقےکےبعض عرب حکام کےکردار سےفائدہ اٹھاکر بزعم خود ایران کوخلیج فارس میں تنہاکرنےکی کوشش کررہاہےلیکن وہ اپنی اس پالیسی پرعمل درآمد میں بھی کامیاب نہيں ہوگا کیونکہ بحرین اورسعودی عرب جیسے اس کےروایتی اتحادیوں کی لڑکھڑاتی صورت حال کے بارےميں اس نےغلط اندازہ لگایا ہے اوراسٹرٹیجک غلطی کی ہے۔ .......

/169