وہابیوں کے ہاتھوں اسلام کے تہذیبی و تمدنی آثار کا انہدام
گذشتہ صدی کے دوران سرزمیں وحی کے سینے پر ایک نہایا افسوسناک اور تلخ واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے امت مسلمہ اپنے تاریخی اور اسلامی آثار سے محروم ہوگئی؛ اور یہ واقعہ سرزمین حجاز میں کرسی اقتدار پر وہابیت کے قبضے سے عبارت تھا۔ تقریباً 90 برس پہلے (سنہ 1344 ہجری میں) جب وہابی حجاز میں اقتدار پر قابض ہوئے تو انہوں نے ایک ہم آہنگ مگر ناپختہ اور غیر سنجیدہ اقدام کے ذریعے "شرک اور بدعت کے نام سے" تمام تاریخی عمارتوں کو منہدم کردیا؛ مگر انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حرم اقدس کو نشانہ بنانے کی جرأت نہ ہوئی کیونکہ انہیں خوف تھا کہ کہیں دنیا کے سارے مسلمان متحد ہوکر ان کے خلاف قیام نہ کریں! اور اصطلاحاً "تقیہ" کے یہ دشمن دوسرے مسلمانوں سے "تقیہ" کرگئے!۔
بیت اللہ الحرام میں تشرفات کے دوران میں ان کے بعض بزرگوں سے دوستانہ گفتگو کرتے ہوئے دریافت کیا کہ اس کی بات کی کیا دلیل تھی کہ اتنے سارے مزارات منہدم ہوئے ہیں مگر مرقد مقدس نبی اکرم صلی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مرقد مقدس کو کوئی گزند نہیں پہنچی ہے؟ لیکن کوئی بھی میری اس بات کا جواب نہیں دے سکا۔
بہرحال امتوں کی حیات مختلف امور سے وابستہ ہے اور تہذیبی، علمی اور دینی آثار کی حفاظت بھی ان ہی امور میں شامل ہیں اور افسوس کامقام ہے کہ سرزمین وحی، بالخصوص مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس شہر، مسلمانوں کی بے تدبیری کی وجہ سے ایک پسماندہ، بے سلیقہ اور متعصب گروہ کے ہتھے چڑھ گئے ہیں اور اسلام کے نہایت بیش قیمت تہذیبی و تمدنی آثار بے بنیاد حیلوں بہانوں سے تباہ و برباد ہوئے ہیں اور وہ بھی ایسے آثار جو تمام کے تمام، اسلام کی افتخار آمیز تاریخ کے نہایت اہم حصوں کی یادگار تھے۔
صرف ائمہ علیہم السلام اور جنت البقیع میں سوئے ہوئے بزرگوں کے مزارات ہی منہدم نہیں ہوئے بلکہ اس ٹولے نے جہاں بھی اسلامی تاریخ و تہذیب کا کوئی بیش بہاء اثر دیکھا اس کو تباہ کردیا اور ان کی اس حرکت سے ناقابل تلافی خسارت و نقصان نے پوری امت مسلمہ کا دامن پکڑ لیا۔
ان تاریخی آثار میں عجیب جاذبیت تھی۔ یہ آثار (دیکھنے والے اور زیارت کرنے والے) انسان کو تاریخ اسلام کے قلب تک لے جاتے تھے۔ جنت البقیع جو کبھی پر شکوہ عمارتوں کا مجموعہ تھی، اس اس کا ہر حصہ کسی اہم تاریخی روداد سے تعلق رکھتا تھا، آج ـ خوبصورت ہوٹلوں اور چمکتی دمکتی عمارتوں کے بیچ ـ ایک نہات بدنام اور بد صورت صحرا کی صورت اختیار کرگئی ہے جس کے بد منظر آہنی پھاٹک ہر روز ایک یا دو گھنٹوں کے لئے زائرین کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ بھی صرف مَردوں کے لئے۔
٭٭٭
حیلے بہانے:
پہلا بہانہ
قبور کو مسجد نہیں ہونا چاہئے
وہابی کبھی کہتے ہیں کہ قبروں کے اوپر عمارت کی تمعری قبروں کی پرستش کا سبب بنتی ہے اور یہ حدیث نبوی (ص) قبروں پر عمارت بنانے کے عدم جواز کی دلیل ہے:
"لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ"۔ (26)
ترجمہ: خداوند متعال نے یہودیوں کو اپنی رحمت سے محروم کردیا کیونکہ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد قرار دیا تھا۔
مگر تمام مسلمانوں کے لئے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی بھی اولیاء اللہ کی قبور کی پرستش نہیں کرتا اور زیارت و عبادت کے درمیان بالکل واضح فرق موجود ہے۔ ہم جس طرح کہ زندوں کے دیدار اور زیارت کے لئے جاتے ہیں اور بڑکروں کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں اور ان سے دعا کی درخواست کرتے ہیں اسی طرح اموات کی زيارت کے لئے بھی جاتے ہیں اور بزرگان دین اور شہدائے اسلام کا احترام کرتے ہیں اور ان سے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔
کیا کوئی بھی عقلمند شخص کہہ سکتا ہے کہ ـ مذکورہ بالا روش سے ـ زندہ بزرگوں کی زیارت کفر اور شرک ہے؟ زیارت بعد از وفات بھی ایسی ہی ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنت البقیع کی قبروں کی زیارت کر لئے تشریف لے جایا کرتے تھے اور قبر نبی (ص) سمیت دوسری قبروں کے بارے میں اہل سنت کے مآخذ و منابع ہی میں بے شمار احادیث نقل ہوئی ہیں۔
اگر خداوند متعال نے یہود پر لعنت بھیجی کی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قبور انبیاء کو سجدہ گاہ قرار دیا تھا جبکہ کوئی بھی مسلمان کسی بھی قبر کو سجدہ گاہ قرار نہیں دیتا۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ اسی وقت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گنبد و بارگاہ مسجد النبی (ص) کے ساتھ ساتھ، دامن آسمان کو چھورہی ہے، اور تمام مسلمان ـ حتی کہ وہابی ـ روضۂ مقدسہ میں (یعنی اس حصے میں جو قبر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے متصل ہے) پانچ وقت کی نمازیں بجا لاتے ہیں اور دیگر اوقات میں اسی مقام پر نوافل پڑھتے ہیں اور آخر الامر قبر شریف کی زیارت کرتے ہیں؛ تو کیا یہ عمل قبور کی پوجا اور پرستش سمجھا جائے گا اور حرام قرار دیا جائے گا؟
اور ہاں! قبر نبی (ص) کو مستثنی کیوں قرار دیا گیا ہے؟ کیا شرک اور غیراللہ کی پرستش کے حرمت کی دلیلوں میں کسی قسم کا استثنی ہے؟ (یعنی: کیا شرک اور غیر خدا کی بندگی کی بعض قسمیں اور شکلیں جائز ہیں؟!)
یقیناً قبور کی زیارت کا عبادت و پرستش سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نبی اللہ الاعظم اور اولیاء اللہ کس مقابر شریفہ کے ساتھ نماز کی ادائیگی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور مذکورہ بالا حدیث ان لوگوں کے لئے ہے جو حقیقتاٌ قبور کی پرستش کرتے ہیں۔
جو لوگ ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے مقابر میں شیعیان عالم کی زيارت سے واقفیت رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ نماز کے وقت جب اذان شروع ہوتی ہے سارے زائرین قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور واجب نمازیں با جماعت ادا کرتے ہیں۔ اور زیارت کے موقع پر ابتداء میں ایک سو مرتبہ تکبیر پڑھتے ہیں اور زيارت کے بعد روبہ قبلہ ہوکر دو رکعت نماز پڑھتے ہں تا کہ آغاز و اختتام پر یہ حقیقت عیاں ہو کہ پرستش صرف اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے۔
مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ افترا بازی، تہمت اور جھوٹ کا باب ـ مخصوص محرکات کی بنا پر کھول دیا گیا ہے اور وہابی اقلیت اپنے مخالفین کو گوناگوں تہمتوں، الزامات اور بہتان تراشی کا نشانہ بنا رہی ہے۔
ان کے اعمال کو حمل بصحت کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم کہہ دیں کہ وہ علمی سرمائے کی قلت کی وجہ سے مسائل کا صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں، وہ توحید اور شرک کا ادراک کرنے سے عاجز ہیں اور وہ زیارت اور عبادت کے درمیان فرق کا صحیح ادراک نہیں رکھتے ہں۔
دوسرا بہانہ
یہ حضرات صحیح مسلم ایک حدیث سند کے طور پر لاتے ہیں کہ ابوالهياج نے روایت کی ہے کہ "قال لى على بن ابى طالب ألا ابعثك على ما بعثنى عليه رسول الله(صلى الله عليه وآله) أن لا تدع تمثالا إلاّ طمسته و لا قبراً مشرفاً إلاّ سويته"۔ (27)
ترجمہ: علی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں ایسی ذمہ داری نہ سونپوں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے سونپی تھی کہ کسی ذی روح کی تمثال (مجسمہ) دیکھتے ہی منہدم کرو اور جہاں بھی کوئی (ابھری ہوئی) قبر دیکھو اس کو ہموار (اور زمین کے برابر) کردو۔
بعض لوگوں نے اس حدیث سے بال