ابنا: بحرین میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن کل کے مظاہروں میں جو چيز زیادہ نمایاں طور پر نظر آئي وہ بحرین کے بادشاہ پر مقدمہ چلاۓ جانے کا عوامی مطالبہ تھا ۔ بحرین کے عوام گزشتہ ایک برس کے دوران ہونے والے عوام کے قتل کا ذمےدار آل خلیفہ کی شاہی حکومت خصوصا شیخ حمد کو جانتے ہیں۔ البتہ اس عرصے میں ان مظالم سے بھی غفلت نہیں برتی جا سکتی ہے جن کا ارتکاب بحرین میں سعودی عرب کے فوجیوں نے کیا۔ایک سال قبل سعودی عرب کے ایک ہزار فوجی سیکڑوں جیپوں ، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ شیخ حمد کی دعوت پر بحرین میں داخل ہوۓ جنھوں نے حقیقت میں اس ملک پر قبضہ کرلیا اور بحرین کے ان عوام کے قتل عام کے سلسلے میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی مدد کی جو پرامن طریقے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے تھے اور جو بحرینی حکام کے ظلم و ستم کی وجہ سے اپنے حقوق سے محروم تھے۔
گزشتہ ایک برس کے دوران بحرین میں دسیوں شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں اور متعدد کو تشدد کا نشانہ بنایا گيا ہے۔ ان کا جرم صرف اپنے ان حقوق کی بازیابی کی کوشش تھی جن کو آل خلیفہ کی شاہی حکومت نے پامال کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی آل خلیفہ کی شاہی حکومت نے بحرینی عوام پر دباؤ ڈالنے کے لۓ کسی بھی ظلم سے دریغ نہیں کیا ہے۔ اسکول سے گھر واپس لوٹنے والے بچوں کو اغواء کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنانا آل خلیفہ کی شاہی حکومت کا ایک نیا ظلم ہے جس کی وجہ سے حالیہ چند دنوں کے دوران بحرین کے عوام کے اشتعال میں شدت پیدا ہوگئي ہے۔ اس میں شک نہیں کہ گزشتہ ایک برس کے دوران آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی جانب سے بحرین کے عوام پر روا رکھے جانے والے ظلم پر عالمی اداروں کی خاموشی اور انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کی جانب سے آل خلیفہ کی شاہی حکومت کے خلاف کوئي اقدام نہ کۓ جانے کی وجہ سے یہ حکومت بحرین میں اپنے تشدد اور مظالم کا سلسلہ جاری رکھنے کے سلسلے میں مزید جری ہوگئي ہے۔ بحرین کے عوام کے مطالبات کے جواب میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی جانب گولیاں برسائي جارہی ہیں ، آنسو گیس کے شیل پھینکے جارہے ہیں اور زہریلی گیس کا استعمال کیا جارہا ہے دریں اثناء بحرین کے حالات کو معمول پر لانے کے لۓ ریاض کی ثالثی کی بات کی جا رہی ہے حالانکہ بحرین کے عوام اپنے ملک کے لوگوں کے قتل عام کے سلسلے میں آل سعود کی حکومت کو آل خلیفہ کی حکومت کے جرم میں برابر کا شریک جانتے ہیں۔ بہرحال یہ بات مسلم ہے کہ اگر امریکہ اور خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک کے بعض عرب حکام شیخ حمد کی حمایت نہ کرتے تو آل خلیفہ کی شاہی حکومت بحرین میں عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوۓ سمندر کا مقابلہ ہر گز نہ کرسکتی۔
بہت سے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بحرین میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت امریکہ اور سعودی عرب کے گرین سگنل کے ساتھ عوام کا قتل عام کر رہی ہے۔ بہرحال بحرین کی سیاسی اور انقلابی جماعتوں نے آل خلیفہ کے کارندوں کی جانب سے کۓ جانے والے قتل عام اور تشدد آمیز اقدامات کے جاری رہنے کے سلسلے میں خبردار کرتے ہوۓ اپنے مقاصد کے حصول تک اپنی انقلابی تحریک جاری رکھنے کی تاکید کی ہے۔........ /169