ابنا: آيت اللہ سید احمد خاتمی نے ایران کے پارلیمانی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کے بین الاقوامی میدان میں اثر کے بارے میں کہا کہ مغرب کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں کو ختم کرنا ان انتخابات کے سلسلے میں امریکہ اور یورپی ملکوں کی پسپائی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے دو مارچ کے پارلیمانی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دشمنوں کی سازشوں کا ٹھوس اور دندان شکن جواب قرار دیا اور کہا کہ تسلط کے نظام کے سامنے ایرانیوں کی استقامت اور عزم و ارادے نے ہمیشہ مغرب کو ایران کے خلاف اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں سے پسپائی پر مجبور کیا ہے۔
خطیب جمعہ تہران نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ یورپی ممالک میں موجودہ اقتصادی بحران نے ان ممالک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا ہے، مزید کہا کہ ایران کے تیل کے بائیکاٹ سے انہیں پشیمانی اور پسپائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے اسی طرح رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے سال تیرہ سو اکانوے ہجری شمسی کو قومی پیداوار اور ایرانی سرمائے اور کام کی حمایت کا نام دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کو یہ نام دینا ملت ایران کے اتحاد کو مضبوط بنانے اور تمام میدانوں میں خودکفالت حاصل کرنے کا باعث بنے گا۔..... /169