17 مارچ 2012 - 20:30

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ، یورپی یونین سمیت 48 ممالک سے سفارتی تعلقات پر نظر ثانی کے حوالے سے 20 مارچ کو پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی۔

ابنا: وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ان کے استعفے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ نیا وزیر اعظم بھی سوئس حکام کو خط نہیں لکھ سکے گا۔ ججوں کی تعینائی کی طرح صدارتی استشنٰی کا معاملہ بھی پارلیمنٹ کے حوالے کر دیا جائے۔ لاہور میں پرنٹ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے استعفٰی دینے سے سوئس حکام کو خط لکھنے کامسئلہ حل ہوتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ لیکن نیا وزیر اعظم آ بھی جائے تو مسئلہ وہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ ججز کی تعینائی کی طرح صدارتی استشنٰی کا معاملا بھی پارلیمنٹ کے حوالے کر دیا جائے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان کے مسئلے پر بہت جلد پریس کانفرنس کر کے قوم کو اعتماد میں لیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ کی موجودگی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات میں اس بارے میں بات کریں گے۔ ایک بار پھر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سرائیکی صوبہ بن کر رہے گا۔ انہیں معلوم ہے کہ مسلم لیگ ن سرائیکی صوبے کے بارے میں قرارداد نہیں لانے دے گی لیکن سرائیکی صوبے پر عوام کے جذبات کو زیادو دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام دو جماعتی کی بجائے ملک میں کثیر الجماعتی نظام چاہتے ہیں تو پیپلز پارٹی کو اعتراض نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، یورپی یونین سمیت 48 ممالک سے سفارتی تعلقات پر نظر ثانی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی نے سفارشات مرتب کر لی ہیں۔ جو 20 مارچ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جامع خارجہ پالیسی کی منظوری دے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد نیٹو سپلائی بند کرنے کے بعد امریکہ سے کبھی معافی کا مطالبہ کیا اور نہ ہی بحالی کے لیے کوئی پیشگی شراط رکھیں۔ وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی ملازمت میں توسیع پر تبصرے سے معذوری کا اظہار کیا۔

........

/169