16 مارچ 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے ایران کے خلاف صہیونی ریاست کی دھمکیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیل کے ممکنہ فوجی حملہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس ناجائز حکومت کی تباہی اور نابودی پر منتج ہو گا۔

ابنا: ایرانی وزیر خارجہ نے ڈنمارک کے ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیلی حکومت اتنی چھوٹی ہے کہ وہ ایک حقیقی جنگ میں حتی ایک ہفتہ بھی ایران کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی اور اگر اس نے ایسی غلطی کا ارتکاب کیا تو یہ اس کی نابودی کا نقطۂ آغاز ہو گي۔
صہیونی ریاست کے حکام گزشتہ مہینوں کے دوران ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنے کی مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔

صہیونی ریاست ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے بہانے امریکہ اور بعض مغربی ممالک کو ایران پر حملے پر اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایران کی ایٹمی تنصیبات کے بارے میں صیہونیوں کا پروپیگنڈا ایسی حالت میں جاری ہے کہ جب اسرائیل اپنے سینکڑوں ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ مشرق وسطی کے علاقے کے لیے ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ناجائز صہیونی ریاست جب سے معرض وجود میں آئی ہے اس نے نہ صرف فلسطینیوں پر اپنے ہمسایوں پر جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ علاقے کی قوموں میں ایک باغی اور جارح حکومت کے نام سے مشہور ہے۔
ایران کو صہیونی ریاست کی حالیہ دھمکیاں بھی کوئي نئی بات نہیں ہے اور ایرانی قوم اور حکام کی جانب سے گزشتہ تینتیس برسوں میں فلسطینی قوم اور قدس کی آزادی کی حمایت اور اسرائیل کی غیرقانونی حکومت کی نفی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملت ایران کے ساتھ صیہونیوں کی دشمنی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
لبنان پر تنیتیس روزہ جارحیت اور غزہ پر بائيس روزہ حملے میں صیہونی حکومت کی شرمناک شکست نے اس حکومت کے ناقابل طلسم ہونے کا طلسم توڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس بنا پر ایران جیسے علاقے کے ایک طاقتور ملک پر اسرائیلی حملے کی دھمکیاں صرف ایک نفسیاتی جنگ ہے کہ جو استعمار اور تسلط کے نظام سے وابستہ میڈیا نے شروع کر رکھی ہے۔
صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو اپنے حالیہ دورۂ امریکہ میں ایران پر حملے کے سلسلے میں صدر باراک اوباما کی رضامندی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے بعد وہ اسرائیل میں عوام کو بھڑکا کر اور میڈیا کے ذریعہ پروپیگنڈا کر کے مغرب کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔لیکن صہیونی ریاست کی فوجی طاقت کے بارے میں امریکی تحقیقاتی مراکز کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ صہیونی ریاست اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جوابی حملوں کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اسی بنا پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے حکام ایران پر ممکنہ فوجی حملے کی نتائج سے بخوبی واقف ہیں اور اگر اس نے ایسی غلطی کا ارتکاب کیا تو اسرائیل درحقیقت اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرے گا۔
 
........

169/