ابنا: امریکہ کے اس اقدام کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ کی حکومت اور فوج نہ صرف افغانستان کی خود مختاری اور اقتدار اعلی کا احترام نہیں کرتی ہے اور اس ملک کے عوام کی جانوں کو کوئي اہمیت نہیں دیتی ہے بلکہ امریکی صدر باراک اوباما سمیت اس ملک کے اعلی حکام کی جانب سے دیۓ جانے والے افغانستان کے عام شہریوں کے قتل عام کی تفتیش اور اس میں ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچاۓ جانے پر مبنی بیانات کھوکھلے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود اپنے مجرم فوجیوں کے ساتھ امریکہ کی فوج اور حکومت کا یہ رویہ افغانستان کے عوام کو کیپیچولیشن سے آشنا کررہا ہے۔ جس کی رو سے افغانستان کی عدلیہ کو افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو کے فوجیوں کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلاۓ جانے کا کوئي حق حاصل نہیں ہے۔ اور صرف امریکی عدالت ہی ان پر مقدمہ چلانے کا حق رکھتی ہے جس کے معنی افغانستان کے قومی اقتدار اعلی اور خود مختاری کی خلاف ورزی کۓ جانے کے ہیں۔ افغانستان میں جرم کا مرتکب ہونے والے امریکی فوجیوں پر امریکی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا افغانستان میں ان فوجیوں کو نہ صرف مزید جرائم سے روکنے کا باعث نہیں بلکہ ان کو مزید گستاخ بنانے کا موجب ہے کیونکہ امریکی فوجی بھی جانتے ہیں کہ امریکی عدالتوں نے کبھی بھی ان مجرموں کو سزا نہیں دی ہے بلکہ وہ صرف راۓ عامہ کو دھوکہ دینے کے لۓ صرف دکھاوے کے مقدمے چلاتی ہیں اور انھوں نے کبھی بھی مجرموں کے خلاف فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی سینیٹ نے بھی امریکی فوجی کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلاۓ جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں توجہ طلب نکتہ قابضوں کے خلاف افغان عوام کے اٹھ کھڑے ہونے کے بارے میں یورپی ممالک کی تشویش ہے کیونکہ افغانستان کی علماء کونسل ، پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اراکین اور حکومت بارہا افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جرائم جاری رہنے کے بارے میں انتباہ دے چکی تھی اور ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں سترہ عام شہریوں کے قتل عام کے بعد تو بہت سے حلقوں نے قابضوں کے خلاف اعلان جہاد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ہلمند کے ہوائي اڈے پر امریکی وزیر جنگ لئون پانیٹا پر ایک افغان شہری کے حملے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ افغان عوام اپنے ملک میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کے جرائم کو معاف نہیں کریں گے ۔ یہ حملہ امریکی حکام کے لۓ سنجیدہ انتباہ سمجھا جا رہا ہے کہ اگر امریکی حکام نے امریکی مجرم فوجی پر مقدمہ چلاۓ جانے پر مبنی افغان عوام کے مطالبے پر توجہ نہ دی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔.......
/169