12 مارچ 2012 - 20:30

زمبابوے کے وزیر دفاع "مانانگا گوا" نے، جو اس وقت تہران کے دورے پر ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "علی اکبر صالحی" سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون پر تاکید کی ہے۔

ابنا: ایران کی دفاعی صنعتوں میں ترقی و پیشرفت کے پیش نظر ایران ، زمبابوے کے ساتھ فوجی تعاون کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی فوج/ ڈکٹیٹر صدام کی حکومت کے زمانے میں عراق کی مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران بے شمار تجربے حاصل کرچکی ہے اور یہ جنگ اس بات کا سبب بنی کہ ایران کے دفاعی ادارے، مغرب کی طرف سے غیر منصفانہ پابندیاں عائد ہونے کے باوجود ہتھیار بنانےاور اپنی دفاعی مصنوعات کے حصول میں کسی کے بھی محتاج نہیں ہیں بلکہ ان امور میں بہت زیادہ ترقی حاصل کرچکے ہیں۔سالہا سال مسلط کردہ جنگ میں ایرانی ماہرین کی خلاقیت نے فوجی شعبے میں دوسروں پر انحصار کو ختم کردیا ہے۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ ایران عراق جنگ میں ایران کے کمانڈروں کے تجربے اس وقت زمبابوے کے ساتھ دفاعی تعاون کے اضافے میں بہت زیادہ مفید واقع ہوسکتے ہیں۔ علی اکبر صالحی نے زمبابوے کے وزیر دفاع "مانانگاگوا" سے ملاقات کے دوران کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ملکی ماہرین اور اپنی موجودہ صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے سائنس ،ٹیکنالوجی / تخلیقی اور دفاعی امور میں اپنی روشن وتابناک ترقییوں کو حاصل کر نے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی بنیاد پر،ایران کے وزیر خارجہ نے ایران اور زمبابوے کے درمیان مختلف امور میں تجربے اور تعاون کے تبادلے پر تہران کی آمادگی کا اظہار کیا ہے زمبابوے کے وزیر دفاع نےبھی اس ملاقات میں دفاعی صنعتوں اور فضائی امور میں ایران کی سائنس ،ٹیکنالوجی میں ترقی کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکام کی سعی و کوشش سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے امریکہ اور یور پی یونین کے ممالک کی طرف سے زمبابوے کے خلاف عائد عالمی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک سیاسی اور اقتصادی دباؤ ڈال کر زمبابوے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کھڑ ی کرنا چاہتے ہیں۔ زمبابوے کے وزیر دفاع نے بھی اقتصادی ، صنعتی،ایٹمی اور دفاعی امور میں ایران کے تجربوں سے استفادہ کرنے نیز مشترکہ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔زمبابوے کے صدر رابرٹ موگا بے کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں بھرپور حمایت دونوں ملکوں کےتعلقات میں ایک نیا باب شمار ہوتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران عالمی امور میں پابندیوں اور سیاسی و اقتصادی د باؤ کے باوجود زمبابوے کے عوام کی مشکلات کے حل کے لئے ہر طرح سے مدد کرنے کےلئے آمادہ ہے۔ .......

/169