ابنا: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کےانیسویں اجلاس کا جنیوا میں ستايئس فروری سے آغاز ہوا ہے اور یہ اجلاس چوبیس مارچ تک جاری رہے گا۔ اس اجلاس میں ایران میں انسانی حقوق میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے احمد شہید کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی جائے گی انسانی حقوق کونسل نے اپنے انیسویں اجلاس میں ایک سیاسی قرارداد پاس کر کے احمد شہید کو ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا جائزہ لینے کےلئے خصوصی نمایندہےکے طور پر معین کیا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا ہے کہ دنیا کی تمام اقوام جانتی ہیں کہ مغربی ممالک انسانی حقوق کے مسئلے کو ہمیشہ دوسرے ممالک کےخلاف حربے کے طور پر استعمال کر تے ہیں لیناچاہتے لہذا ایسی ہی غلط رپورٹیں تیار کر تے ہیں ۔ ایران کے بارے میں احمد شہید کی رپورٹ کا بھی اسی دائرے میں جائزہ لیا جانا چاہیئے۔ درحقیقت پہلے ہی دن جب احمد شہید کو اقوام متحدہ کی کونسل کا نمایندہ معین کیا گیا تھا یہ پیشنگوئی کی جارہی تھی کہ اگرچہ بظاہروہ مسلمان ہیں لیکن امریکی اہداف کے لئے کام کر ے گا جب وہ وہ کئی رپورٹیں پیش کر چکے تو امریکہ کی جانب سے اس کام کے لئے ا س کی نوکری پکی ہوگئی ۔ درحقیقت احمد شہید کو ایران کے خلاف غلط رپورٹیں تیار کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کے لئے امریکہ ہی کی پالیسی کے تحت انتخاب کیا گیا ہے ۔ احمد شہید نے رپورٹ تیار کرنے اور اطلاعات حاصل کرنے کے لئے ایرانی حکام سے رابطہ قائم کرنے کے بجائے انقلاب مخالف عناصر سے رابطہ قائم کیا اور رپورٹ بھی امریکیوں کی ہم آہنگی اور ان کی پالیسیوں کے مطابق تیار کی ہے۔ احمد شہید حالیہ مہینوں میں مغربی ممالک منجملہ فرانس، جرمنی ، اور بیلجیم گئے اور انقلاب محالف عناصر سے وسیع پیمانے پر تعلقات قائم کئے ۔ اسی لئے ان کی رپورٹ انقلاب مخالف عناصر کے تکراری بیانات پر مشتمل ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انسانی حقوق کا مسئلہ اقوام متحدہ کی تشکیل کے ابتدائی برسوں سے مغربی ممالک کے حکام کے ہاتھوں میں اتحادیوں اور مخالفین کے ساتھ دوہریے رویہ کے لئے ایک سیاسیی حربے کے طورپر استعمال ہو تا رہا ہے اور عملا مغربی ممالک اپنےسیاسی اوراقتصادی مقاصد حاصل کر تے ر ہے ہیں۔حالانکہ انسانی حقوق کے خیال رکھنے کا لازمہ یہ کہ انسانی حقوق اور انسانی حقوق کے ابتدائی ترین اصول جیسے امتیازی سلوک سے اجتناب ، اور انصاف و برابری کاخیال رکھا جائے۔ درحقیقت دنیا میں خاص طور پر حالیہ کئی عشروں سے انسانی حقوق کی افسوسناک صورت حال کی وجہ انسانی حقوق کو حربے کےطور پر استعمال کر کے دوہریہ رویہ اپنانا ہے جومغربی ممالک میں مسلمان اقلیتوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ اور دنیا میں اسلام فوبیا ، قوم پرستی اور ریاستی دہشت گردی کی ترویج کا سبب بن گیا ہے، اس وقت بہت سے دہشت گرد گروہوں کو انسا نی حقوق کے دعویدار مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے ۔ایران کے سائنس دانوں کا ان دہشت گر دوں کے ذریعہ قتل جنھیں امریکہ اوراسرائیل کی حمایت حاصل ہے منجملہ ان امورمیں سے ہے۔ ا ب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ا س طرح کے دوغلے رویے اور دوہری پالیسیوں کے باوجودانسانی حقوق کے دفاع کے حقیقی اہداف حاصل ہو سکتے ہیں اور کیا احمد شہید جیسے انسان ا افراد حقوق کے حقیقی مسائل کو پیش کر سکتے ہیں؟......./169
10 مارچ 2012 - 20:30
News ID: 302053
اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کی طرف سے ڈاکٹر محمد جواد لاریجانی کی سربراہی میں ایک اعلی رتبہ وفد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کےانیسویں اجلاس میں شرکت کے لئے جنیوا گیا ہے۔ اس اجلاس میں دنیا کے ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لیا جائےگا۔