9 مارچ 2012 - 20:30

روس کے وزیر خارجہ نے بین الاقوامی قوانین کی حمایت اور کسی خاص نظام کی حمایت نہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کو بہانہ بنا کر مسئلہ فلسطین کو حاشیہ پر نہیں ڈالنا چاہیے۔

ابنا: روسی وزیر خارجہ نے عرب ليگ کے وزراء کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس عرب ممالک کی طرف سے جمہوریت کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کی تائید کرتا ہے اور شام میں جمہوریت کے سلسلے میں تلاش کرنے والے عرب ممالک کو اپنے ملک میں بھی جمہوریت کے لئے راہیں ہموار کرنی چاہییں اس نے کہا کہ ہم شام میں ان تمام افراد کا تعوان کرتے ہیں جو اصلاحات کے خواہاں ہیں لیکن شام میں تخریبکاری کرنے والوں کی روس حمایت نہیں کرےگا۔

لاوروف نے کہا کہ ہم شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے عرب لیگ کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ حمایت بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے شام میں عالمی برادری کےنمائندے کے عنوان سے کوفی عنان کی حمایت کی ہے اور اس نے شا م میں مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔لاوروف نے کہا کہ شام کے مسئلہ کو بڑا بنا کر فلسطین کے معاملے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے شام کا مسئلہ اہم نہیں بلکہ فلسطین کا مسئلہ سب سے اہم ہے جس پر عرب حکام کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں دہشت گردوں کو مسلح کرنا سب کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔....... /169