ابنا: علی اکبر صالحی نے بدھ کے روز نخجوان میں ایران ، ترکی اور جمہوریۂ آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کے سہ فریقی اجلاس میں مذکورہ بات کہی۔انہوں نے کہا کہ جنگ پسندانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کے لئے علاقے میں موجود مواقع سے غلط فائدہ اٹھانا اغیار کے اہداف میں سر فہرست ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو چیز علاقے کے امن و استحکام کے منافی ہے وہ اس علاقے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگي اور ان کی مداخلت ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونی طاقتوں کو علاقے کے لوگوں کے مفادات میں کوئي دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے مفادات کی خواہاں ہیں اور اپنے ناجائز مفادات و اہداف کے حصول کے لئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرتی ہیں۔انہوں نے ایران ، ترکی اور جمہوریۂ آذربائيجان کے اجلاس کو علاقے کی ترقی ، استحکام اور سلامتی کا ذریعہ قراردیا اور کہا کہ علاقائي مسائل کا پرامن اور منصفانہ حل علاقائی تعاون کے ذریعہ نکلتا ہے۔واضح ر ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران ، ترکی اور جمہوریۂ آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کا سہ فریقی اجلاس نخجوان میں منعقد ہوا۔اجلاس کے اختتام پربدھ کے روزعلاقائي تعاون میں فروغ کے بارے میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گيا۔ .......
/169