6 مارچ 2012 - 20:30

يمن کے دارالحکومت صنعا اور مرکزي شہر ذمار ميں ايک بار پھر ہزاروں لوگوں نے مظاہرے کئے ہيں-

ابنا: ہزاروں کي تعداد ميں يمني شہري مرکزي شہر ذمار کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے ملک کے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کي حکومت کے مکمل خاتمے اور حکمرانوں کے خلاف مقدمات چلائے جانے کا مطالبہ کيا-

مظاہرين نے يمن کے شہر زنجبار ميں ہونے والے دھماکوں کي بھي مذمت کي جن کے بارے ميں کہا جارہا ہے کہ يہ دھماکے امريکي خفيہ ادارے سي آئي اے نے کرائے ہيں-  مظاہرين اپنے ملک کے اندروني معاملات ميں امريکي مداخلت کي مذمت کرتے ہوئے صنعا ميں تعينات امريکي سفيرکو بے دخل کئے جانے کا مطالبہ کيا-

ہزاروں کي تعداد ميں يمني شہري دارالحکومت صنعا ميں بھي  سڑکوں پر آئے- انہوں نے عدالت عظمي کي عمارت کے سامنے احتجاجي دھرنا ديا- يمن میں جنوري دوہزار گيارہ سے آمريت کے خلاف تحريک جاري ہے جس کے دوران سيکورٹي فورس کے حملوں ميں سيکڑوں شہري ہلاک اور زخمي ہوچکے ہيں-
.......

/169