5 مارچ 2012 - 20:30

اگر کوئی ڈاکٹر، وکیل انجینیئر، استاد، عالم، طالبِ علم، سماجی خدمتگار، دوکاندار، سپاہی، راہگیر یا اپنےگھر میں محوِ استراحت کوئی شخص یا اشخاص کا گروہ ولایتِ علی ابن ابی طالب کامعتقد یا عزادارِ حسین ہے تو اسے پاکستان میں جینے کا کوئی حق نہیں۔ یہ واضح اور تسلیم شدہ منشور ہے اس خارجی ٹولے کا جو ازل سے ابد تک خارجی ہی ہے۔ لعنت اسکا مقدر اور آتشِ جہنم اسکا نصیب ہے۔

ابنا: مسجدِ ضرار کا پلا منافقین کا یہ ٹولہ دورِ نبوی میں بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا اور بعد از نبی کھلم کھلا اپنے نفاق کے اظہار پر تل کھڑا ہوا۔ اس گروہ کا طریقہءواردات ایسا انوکھا ہے کہ زبان پر نام تو خدا اور رسول کا ہوتا ہے لیکن دل میں جتنا بغض اس رسول کے خانوادے اور انکے نام لیواؤں کے لئے ہے، وہ شیطان کے لہو میں سرایت کیئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس ٹولے کی سفاکیت میں احد و کربلا کا رنگ نمایاں ہے۔

جب، جہاں اور جیسے  اس عفریت کا دل چاہتا ہے، کمالِ اطمنان سے اپنا کام کرکے شیطانی قہقہے بلند کرتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ نہ ہی انتظامیہ اسکو کچھ کہنے کی روادار ہے  اور نہ ہی حکومت کے پاس اسکو نکیل ڈالنے کی کوئی پالیسی۔ قانون کے خوف کا یہ عالم ہے کہ  اسکے سامنے آتے ہی اسکی آنکھوں کا نور چلا جاتا ہے اور یہ اندھا ہوجاتا ہے۔

نہ کسی سیاسی جماعت میں اتنی غیرت اور نہ ہی مذہب کی ٹھیکیدار کسی جماعت میں اتنی ہمت کہ اس ٹولے کی کسی بھی کاروائی کی مذمت کرے یا اسکے کسی فعل پر اظہارِ برآت کرے۔ انتظامیہ کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اس شیطانی ٹولے کی کاروائیوں کی فہرست اور کارگزاری کی تمام تفاصیل تو گنواسکتی ہے لیکن اسکے خلاف کوئی اقدام کرنے کے تصور سے بھی گریزاں ہے۔ عدلیہ کا یہ حال کہ آلو پیاز کی قیمتوں میں اضافے پر تو ازخود نوٹس لے سکتی ہے لیکن بے گناہ حسینیوں کا بہتا ہوا لہو اسکے نوٹس میں نہیں آسکتا۔

سیاسی و مذہبی عمائدین اس گروہ کے مقروض و محتاج رہتے ہیں اور آئے دن ان مکروہ چہروں کے ساتھ شیطانی مسکراہٹیں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جبکہ آپس کے سیاسی اور مذہبی اختلافات اس بلا کے کہ نہ ہی سیاسی رہنماؤں کے نظریات ایک اور نہ ہی مذہب اور فقہ کے آئمہ ایک۔  

 دوسری جانب معاملہ یہ ہے کہ جو قوم اس گروہ کی آنکھ کا کانٹا ہے، اسکا ایک ہی نظریہ ہے اور وہ ہے ولایتِ اہلِ بیتِ رسول (ص) اور یہ امت پرچمِ کربلا کے سائے تلے چودہ صدیوں سے پروان چڑھ رہی ہے۔یہ قوم گیارہ سو برسوں سے اپنے وارث کے انتظار میں ہے کہ وہ پردہءغیبت کو چاک کرے اور اس تمام عرصے میں ہونے والے ظلم کا حساب بے باق کرے۔ لیکن صد افسوس اور دکھ کا مقام یہ ہے کہ یہ قوم  ایک پرچم اور ایک نظریہ رکھتے ہوئے بھی سینکڑوں مجلسوں، انجمنوں، سنگتوں، کمیٹیوں، کونسلوں، آرگنائزیشنز، اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز، ونگز، ٹرسٹسِ، تحریکوں، پارٹیوں اور افراد میں منقسم ہوکر رہ گئی ہے۔  

اب یہ معمول کا معلوم طرزِ عمل ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی روز ہونے والے سانحے کی اطلاع آتی ہے تو مذکورہ بالا گروہ اپنے اپنے بنائے ہوئے پرچم  تلے اپنے اپنے لیڈر کے بیان کے زریعے وقوع پذیر ہونے والے واقعے کی مذمت کرتے ہیں، ریلیاں نکالتے ہیں، نعرے بلند کرتے ہیں، قراردادیں پاس کرتے ہیں اور انتظامیہ کو آئیندہ کسی بھی قسم کے واقعے کی صورت میں اپنے حتمی فیصلے کی دھمکی سے آگاہ بھی کرتے ہیں۔ جاری ہونے والا اپنا بیان خود ہی بار بار پڑھتے بھی ہیں اور شہداء کے کٹے لاشوں کی تصاویر کو بھول کر اخبارات و رسائل میں شائع شدہ اپنی ہی تصاویر کو شوق سے دیکھتے بھی ہیں۔ جبکہ سب یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارا نام بھی دشمن کی فہرست میں شائع شدہ ہے اور اگلی باری اپنی بھی ہوسکتی ہے۔

یہ تما م کام تمام پارٹیاں علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے پلیٹ فام سے انجام دیتی ہیں۔ پھرکچھ دنوں یا ایک آدھ دن کے وقفے کے بعد یہی کچھ دھرایا جاتا ہے۔ کیونکہ دشمن کو اس بات کا یقین اور اطمنان ہے کہ یہ قوم اب قوم نہیں رہی جو اس سے خوف کھایا جائے۔ اب یہ تقسیم ہوچکی ہے اور کوئی بھی گروہ، کمیٹی، سنگت، مجلس یا انجمن کسی دوسرے نام کی مجلس یا انجمن کے پرچم تلے ہم پر انگلی نہیں اٹھائے گی۔ سو سکون سے اپنی کاروائیاں جاری رکھو۔ ہاں اگر تو یہ ایک علمِ عباس کے نیچے اکٹھے ہوگئے اور ایک نعرہء حیدری جو انکی پہچان ہے، لگادیا تو وہ ہمارا آخری دن ثابت ہوگا۔

.......

/169-110