ابنا: در حقيقت اس وقت اہم عالمي خبروں سے يونان کا موضوع ہٹ جانے کے بعد سرمايہ کاروں کي تشويش بڑھانے کے ليے ايک نيا موضوع سامنے آ گيا ہے اور وہ تيل کي قيمتوں ميں اضافے کا ہے-
بعض مغربي ماہرين کا کہنا ہے کہ اگر يہ عمل اسي طرح سے جاري رہا تو ترقي يافتہ ممالک ميں معاشي صورتحال کي بہتري پر اثر پڑے گا اور ممکن ہے کہ نئي منڈيوں ميں افراط زر کي شرح پھر سے بڑھنے لگے- ان حالات ميں غير ملکي کرنسي کے شعبے ميں کام کرنے والے سرمايہ کاروں کو ناروے، مليشيا، برازيل اور روس جيسے تيل پيدا کرنے والے ممالک کي کرنسي خريدني ہوگي
واضح رہے کہ عالمي منڈيوں ميں تيل کي قيمت ميں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پچھلے سال کے مقابلے ميں يہ اپني سب سے اونچي شرح پر پہنچ چکي ہے- اقتصادي ماہرين کا کہنا ہے کہ ايران کے تيل کے بائيکاٹ کے سبب تيل کي قيمت ميں بيس فيصد اضافہ اور وہ بھي ايسے عالم ميں جب يورپي يونين کو شديد معاشي بحران کا سامنا ہے، اس بات کا سبب بنا ہے کہ يہ مسئلہ يورپي يونين کے ليے ايک نئے درد سر ميں تبديل ہو جائے- ايران کي جانب سے تيل کي سپلائي روکے جانے کے سبب تشويش ميں اضافے کے ساتھ ہي دسمبر کے اواسط سے اب تک برينٹ آئل کي قيمت ميں بيس فيصد اضافہ ہو چکا ہے-
ايک ماہر اقتصاديات اينڈرو ميليگان نے اس سلسلے ميں کہا ہے کہ انہيں لگتا ہے کہ تيل کي قيمت ميں مزيد دس سے پندرہ ڈالر کا اضافہ ہوگا اور ان صنعتوں پر اس کا زيادہ اثر پڑے گا جو ڈالر ميں اپنا کاروبار کرتي ہيں- تاہم اگر تيل کي قيمت في بيرل ايک سو چاليس ڈالر تک پہنچ جائے اور اسي قيمت پر باقي رہے تو بھي معاملہ تھوڑا مختلف ہوگا-
جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگر تيل کي قيمت ميں اس سے زيادہ اضافہ ہوگيا جو اس سے پہلے تھا تو پھر يورپ کي معاشي صورتحال پر بہت زيادہ اثر پڑے گا-
لندن کے ايک اور ماہر اقتصاديات جوليان جوزف اس سلسلے ميں کہتے ہيں کہ يورپ کے ديگر علاقوں ميں يونان کي صورتحال اور معاشي کفايت شعاري کے اقدامات کے بارے ميں پائي جانے والي تشويش کے پيش نظر، يورپ کي اقتصادي صورتحال کو بہت زيادہ نقصان پہنچنے کا انديشہ ہے-
حاليہ ہفتوں ميں ايران کي جانب سے تيل کي سپلائي روکنے کے اعلان کے بعد يورپ ميں بہت زيادہ تشويش پيدا ہوگئي ہے اور اگر يہ بات عملي جامہ پہن ليتي ہے تو پھر اسٹاک مارکيٹ ميں بھي بہت زيادہ اتار چڑھاؤ آئے گا اور عالمي معيشت کو متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا-
واضح رہے کہ بہت سے تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تيل کي قيمت ميں ہونے والے تيزي سے اضافہ مغربي ممالک خاص طور پر يورپي يونين کے رکن ممالک کي اقتصادي صورتحال کے ليے بہت زيادہ نقصان دہ ہوگا جو اس وقت خود ہي معاشي بحران ميں پھنسے ہوئے ہيں-
.......
/169