ابنا: اگر ایران ہمارے توانائی کے بحران کے حل میں مددگار ہو سکتا ہے جس کیلئے وہ گیس پائپ لائن معاہدے کے علاوہ ہمیں سستے نرخوں پر تیل فراہم کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی ایران کی جانب سے پاکستان کو پیشکش کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کو موخر ادائیگی پر روزانہ 80 ہزار بیرل تیل فراہم کر سکتا ہے۔ اس ایرانی پیشکش کو عملی قالب میں ڈھالنے کا جائزہ لینے کیلئے پاکستان کا وفد اس ماہ کے وسط میں ایران کا دورہ بھی کر رہا ہے جبکہ ایران نے مکران ڈویژن کیلئے 70 میگاواٹ بجلی ہمیں فراہم بھی کر دی ہے۔ ایران کے اس بے لوث تعاون سے یقیناً ہمارے بجلی، گیس کی قلت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور تیل بھی آسان شرائط پر دستیاب ہو سکتا ہے، پھر کیا محض اس لئے ایران کا یہ تعاون ٹھکرا دیا جائے کہ امریکہ کی پیشانی پر بل پڑے ہوئے ہیں۔
امریکہ نے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ایران پر پابندیوں کے ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسی پائپ لائن بچھانے کے کیا نتائج برآمد ہونگے۔ اس سلسلہ میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے گزشتہ روز امریکی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستان اور دیگر ممالک ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے سے اجتناب کریں ورنہ امریکہ مجبور ہو جائیگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے پابندیوں کے قانون کے مطابق سلوک کرے۔
انہوں نے باور کرایا کہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے جبکہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے پر عملدرآمد سے پاکستان کیلئے ان مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ مجبور ہو گا کہ وہ پاکستان پر ان پابندیوں کے حوالے سے دباﺅ ڈالے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندیوں کے قانون کے تحت جو بھی ملک یا کمپنی ایران سے بزنس کریگی، اس پر اقتصادی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، جن میں امپورٹ، ایکسپورٹ اور امریکی امداد وغیرہ کی پابندیاں شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ ہم شکیل آفریدی کی رہائی کیلئے بھی پاکستان پر دباﺅ جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر امریکی رکن کانگریس ڈانا روہرا پیکر نے بھی باور کرایا کہ اگر شکیل آفریدی کو رہا نہ کیا گیا تو اسے پاکستان کی جانب سے عدم تعاون سمجھا جائیگا۔
امریکی سینٹ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے روبرو ہلیری کلنٹن کا دھمکی آمیز تلخ لہجے میں دیا گیا بیان عملًا پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان ہے جس کا واحد مقصد توانائی کے موجودہ بحران میں پاکستان کی بے لوث مدد کو آنیوالے اسکے برادر مسلم پڑوسی ملک ایران سے دوستی اور تعلق کو ختم کرانے کا ہے، تاکہ یہ دونوں ممالک باہم مل کر مسلم امہ کے اتحاد کی ضمانت نہ بن جائیں۔ ایران پر امریکی پابندیاں اسکی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں پر لگائی گئی ہیں جبکہ پاکستان پہلے ہی امریکہ کے ہاتھوں یہ سزا بھگت چکا ہے۔ جب کلنٹن کے دور میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے امریکہ کی تمام ترغیبات اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا تو اسی وقت امریکی پابندیوں کا قانون پاکستان پر لاگو کر دیا گیا، جس کی اقوام متحدہ نے بھی توثیق کی، نتیجتاً پاکستان کے قرضے، امداد اور تجارتی تعلقات منقطع کر لئے گئے، مگر ان پابندیوں کے باوجود پاکستان کی معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی رہی۔ اگرچہ بعد میں جرنیلی آمر مشرف نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ایٹمی قوت کے حامل اس ملک کو عملاً امریکی غلامی میں دے دیا جس کا خمیازہ ہم امریکی ڈومور کے تقاضوں کی تعمیل کرتے کرتے آج پھر اقتصادی پابندیوں کی امریکی دھمکیوں کی صورت میں بھگت رہے ہیں جبکہ اب امریکہ اس خطہ میں اسلامی بلاک کے تصور کو بھی ناممکن بنانے پر تلا ہوا ہے۔ امریکہ یقیناً سپرپاور ہونے کے زعم میں دنیا کے تمام ممالک کو اپنا مطیع و تابع فرمان سمجھتا ہے اور پابندیوں سے متعلق اپنے قانون کا ہنٹر ہر اس ملک پر چلانا چاہتا ہے، جو اسے اپنے احکام و عزائم سے سرکشی کا ارادہ ظاہر کرتا نظر آتا ہے۔ پابندیوں کے اس قانون نے کبھی بھارت، اسرائیل کی جانب تو رخ نہیں کیا اور کیا امریکہ کو یہ خدائی لائسنس ملا ہوا ہے کہ وہ اور اسکے تابع فرمان ممالک ہی ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتے ہیں اور دیگر ممالک کو اپنی سلامتی کو لاحق خطرات کے تناظر میں بھی ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔ دھونس اور دھاندلی کے عکاس اس قانون کو امریکہ پہلے خود پر تو لاگو کرے، پھر دوسروں سے اس کا تقاضہ کرے، جبکہ امریکہ اور بھارت نے تو ابھی ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے معاہدے (سی ٹی بی ٹی) پر بھی دستخط نہیں کئے۔ اس تناظر میں دہرے معیار پر مبنی کسی قانون کو دوسروں پر کیسے لاگو کیا جا سکتا ہے جبکہ ہر ملک کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کے توڑ کیلئے کوئی بھی حفاظتی اقدام اٹھا سکتا ہے، جو پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصول کا بھی تقاضا ہے۔ اس بنیاد پر یقیناً ایران کو بھی اپنی آزادی و خودمختاری کے تحفظ کیلئے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا مکمل استحقاق حاصل ہے جس پر اسکے علاوہ اسکے ساتھ تجارتی معاہدے کرنیوالے ممالک کو بھی سزا دینا کس انصاف کے زمرے میں آتا ہے؟ کیا امریکہ ایسی دھمکیوں سے خود کو عالمی غنڈہ تسلیم کرانا چاہتا ہے؟ اور کیا ہر ملک کی آزادی اور خودمختاری امریکی خواہشات کے تابع ہے؟ صریح ناانصافی پر مبنی ایسے کسی فلسفے، اصول یا قانون کو نہ کسی دوسرے ملک پر لاگو کیا جا سکتا ہے، نہ کسی کو یہ قابل قبول ہو سکتا ہے، اس لئے یہی وقت ہے کہ امریکی عزائم کو بھانپتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق نظرثانی کر کے اسکی جنگ سے فوری اور مکمل علیحدگی اختیار کر لی جائے اور خطہ میں چین اور روس کےساتھ مل کر طاقت کا توازن قائم کرنے اور ساتھ ہی ساتھ اسلامی بلاک تشکیل دینے کی سنجیدہ کوششیں شروع کر دی جائیں۔
اگر ایران ہمارے توانائی کے بحران کے حل میں مددگار ہو سکتا ہے جس کیلئے وہ گیس پائپ لائن معاہدے کے علاوہ ہمیں سستے نرخوں پر تیل فراہم کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی ایران کی جانب سے پاکستان کو پیشکش کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کو موخر ادائیگی پر روزانہ 80 ہزار بیرل تیل فراہم کر سکتا ہے۔ اس ایرانی پیشکش کو عملی قالب میں ڈھالنے کا جائزہ لینے کیلئے پاکستان کا وفد اس ماہ کے وسط میں ایران کا دورہ بھی کر رہا ہے جبکہ ایران نے مکران ڈویژن کیلئے 70 میگاواٹ بجلی ہمیں فراہم بھی کر دی ہے۔ ایران کے اس بے لوث تعاون سے یقیناً ہمارے بجلی، گیس کی قلت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور تیل بھی آسان شرائط پر دستیاب ہو سکتا ہے، پھر کیا محض اس لئے ایران کا یہ تعاون ٹھکرا دیا جائے کہ امریکہ کی پیشانی پر بل پڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ تو حیلے بہانے سے پہلے ہی ہمیں اقتصادی پابندیوں کی زد میں لا چکا ہے اور ہماری سلامتی کیخلاف روز کوئی نیا منصوبہ تیار کر کے بیٹھا ہوتا ہے۔ ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی بھی اسے ایک آنکھ نہیں بھا رہی اور وہ اسے اپنی دسترس میں لانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کیلئے منظور کی گئی فوجی اور سول امداد کی صرف ایک قسط کے بعد مزید ادائیگی کی اب تک نوبت ہی نہیں آپائی۔ وہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد ہماری فوجی امداد روک چکا ہے اور سول امداد کو کڑی شرائط کے تابع کرنے کے اقدامات بھی اٹھا رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے مزید قرضوں کا حصول بھی اس نے ہمارے لئے ناممکن بنا رکھا ہے جبکہ نام نہاد ”فرینڈز آف پاکستان“ کی اعلان کردہ امداد کا اب تک ایک دھیلا بھی ہمیں نہیں مل سکا۔ پھر اقتصادی پابندیاں اور کیا ہوتی ہیں۔ جو اقدام اٹھانے کی امریکہ دھمکی دے رہا ہے، وہ تو پہلے ہی بروئے کار لا چکا ہے۔ اس سے زیادہ سختیوں کے کیا پہاڑ وہ ہم پر توڑ سکتا ہے اور اگر وہ مزید کوئی اقدام اٹھاتا بھی ہے تو اب ملکی اور قومی مفادات کا یہی تقاضا ہو گا کہ اسے اسی کے لہجے میں جواب دیا جائے اور اسکے جارحانہ عزائم کا ٹھوس بنیادوں پر توڑ کیا جائے۔ یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ آذربائیجان پارلیمنٹ کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے اسلامی ممالک پر مشتمل فوجی بلاک تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے، اب حالات کا تقاضا ہے کہ اس تجویز کو فی الفور عملی جامہ پہنایا جائے۔ اس خطہ کے اسلامی ممالک بشمول پاکستان، ایران، افغانستان، بنگلہ دیش، ترکی، مالدیب، آذربائیجان، ترکمانستان، انڈونیشیا، ملیشیا اور برونائی اور پھر عرب ممالک کی سرزمین پر قدرت نے اتنے خزانے دفن کر دیئے ہیں اور اتنے وسائل دستیاب کر دیئے ہیں کہ باہمی تعاون سے ان کو بروئے کار لا کر ہم نہ صرف ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں بلکہ ترقی یافتہ مغربی معاشرے سے بھی آگے نکل سکتے ہیں، اسلئے امریکی دھمکی کو اپنے لئے نعمت غیرمترقبہ سمجھا جائے اور ٹھوس اسلامی بلاک کی تشکیل کو عملی جامہ پہنا دیا جائے، بدمست امریکہ کے عزائم کا اسلامی فوجی بلاک ہی موثر جواب ہو گا۔
.......
/169