ابنا: انہوں نے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں حالیہ دنوں میں آنے والی اونچ نیچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، باہمی احترام کے اصول اور ارضی سالمیت کے اصولوں کے مطابق امریکہ سے مذاکرات کاخواہاں ہے۔ انہوں نے امریکہ سے کہا کہ وہ پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کرنے سے پرہیز کرے۔ ادھر پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکی وزیرخارجہ کے بیان کو مسترد کرتےہوئے کہا ہے
کہ امریکہ کو پاکستانی عوام پر اپنے غیر قانونی مطالبات مسلط کرنے کا کوئي حق نہیں ہے۔ محترمہ حنا ربانی کھر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں پاکستان پر پابندیاں لگانے کی کلنٹن کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور ایران پاکستان گيس پائپ لائن ہرقیمت پر مکمل کی جائے گي اور اسلام آباد اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور کسی کو اس میں مداخلت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ محترمہ حنا ربانی کھر نے تاکید کی کہ کسی تیسرے ملک کو تہران اسلام آباد تعلقات کے بارے میں اپنے نظریات مسلط کرنے کا حق نہیں ہے۔ یاد رہے امریکہ، پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران کے ساتھ گيس پائپ لائن منصوبے کو ترک کردے۔ ہندوستان، پاکستان، چین ، روس اور چاپان و ترکی نے ایران کے تیل کے بائيکاٹ کی مغربی پالیسیوں کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔
.....
/169