26 فروری 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی انسانی حقوق کونسل کے انیسویں اجلاس میں شرکت کرنے کی غرض سے ایک وفد کو ساتھ لے کر جنیوا گۓ ہیں۔

ابنا: علی اکبر صالحی اس اجلاس میں اپنی تقریر میں انسانی حقوق کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بیان کریں گے۔ یورپی ممالک نے بارہا انسانی حقوق کے مسئلے سے غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ یہ دوہرا رویہ دنیا میں انسانی حقوق کے سلسلے میں امتیازی سلوک اور دوہرے معیارات کا سبب بنا ہے۔

یورپ انسانی حقوق کے مسئلے سے انسانی حقوق سے متعلق مشکلات کو حل کرنا نہیں چاہتا ہے بلکہ وہ اس کو حربے کے طور پر استعمال کر کے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے درپے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کا منشور بھی یکطرفہ ہے وہ اسے مدون کرنے والوں کے کلچر سے مطابقت رکھتا ہے۔

اور اس میں ایسے امور پاۓ جاتے ہیں جو دین اور دینداری سے تضاد رکھتے ہیں حالانکہ دنیا کی آبادی کی اکثریت دیندار ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کی بہت زیادہ خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ غزہ کے مظلوم فلسیطینوں پر کۓ جانے والے بائیس روزہ حملوں سمیت انسانی حقوق کے بارے میں دوہرا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

عالمی راۓ عامہ یہ توقع رکھتی ہے کہ انسانیت پر ظلم کرنے والوں کے خلاف موثر اقدام کیا جاۓ لیکن اس کے باوجود کوئي قابل توجہ اقدام نہیں کیا گيا حتی غزہ میں اسرائیلی مظالم کے بارے میں اقوام متحدہ کو جو رپورٹ پیش کی گئي اسے بھی آرکائیو میں محفوظ کردیا گیا۔

آج بھی غزہ میں محاصرے کے شکار ایک کروڑ آٹھ لاکھ مظلوم انسان انتہائي مشکل حالات میں زندگي گزار رہے ہیں۔ اور وہ بنیادی ترین انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اقوام متحدہ خصوصا سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق اور افغانستان میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لے۔

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا جارح طاقتوں کی جانب سے غیر منصفانہ رویہ جاری رہنے کے باوجود انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق مقاصد حاصل کۓ جاسکتے ہیں اور سب کے لۓ بنیادی آزادی اور حقیقی انسانی حقوق کی فراہمی کا راستہ ہموار کیا جاسکتا ہے؟ اس میں شک نہیں کہ ملت ایران دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ اقوام متحدہ سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حقیقی اسباب کی واقفیت حاصل کرے گي اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائي کرے گی۔

اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی تعلیمات اور اپنی سابقہ تہذیب کے پیش نظر انسانی حقوق کی پابندی کرتا ہے اور وہ انسانی حقوق کے حقیقی ترکیبی عناصر کی شناخت اور ان کے احترام کی بنیاد پر تعاون کے لۓ تیار ہے۔ اسی مسئلے کی وجہ سے ایران اور انسانی حقوق کونسل کے باہمی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئي ہے۔ اس زاویۂ نگاہ کے ساتھ جنیوا اجلاس شائد اس بارے میں باہمی تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرے۔ہر چند کہ یورپ نے اس طرح کے اجلاسوں کو ہمیشہ اپنے مفاد میں موڑنے کی کوشش کی ہے۔.......

/169