اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق ابواحمد نے بدھ کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ نے اپنی دھمکیوں کو العوامیہ کے علاقے پر مرکوز کیا ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وزارت داخلہ الشرقیہ کے عوام کو چند گروہوں میں تقسیم اور عوامی تحریک کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔
ابو احمد نے الشرقیہ کے عوام کے مطالبات کے سلسلے میں آل سعود پر طاری حیرت اور گومگو کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل سعود کے حکمران ایک طرف سے اپنے مشیروں کو علاقے کے عمائدین اور علماء کے پاس روانہ کرتے ہیں اور ان سے مذاکرات کی اپیل کرتے ہیں اور عوامی مطالبات کو سننے اور توجہ دینے کے وعدے دیتے ہیں اور دوسری طرف سے ان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور ان کے نوجوانوں کو قتل کرتے ہیں!۔
انھوں نے آل سعود کی یک بام و دو ہوا کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ال سعود کے حکمران ایک طرف سے دوسرے ملکوں کو عوامی مطالبات سننے اور توجہ دینے کی سفارش کرتے ہیں اور اسی اثناء میں اپنے عوام کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں اور قتل کرتے ہیں۔۔۔انھوں نے کہا: آل سعود نے دنیا والوں کے سامنے اپنا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔
........
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ