22 فروری 2012 - 20:30

سعودی عالم دین نے آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے الشرقیہ کے علماء اور مظاہرین پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موقف سعودی اہلکاروں کی سیاسی دیوالیہ پن کا اعتراف ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق سعودی عالم دین "شیخ غازی الشبیب" نے شیعہ عالم دین شیخ الصفار کے خلاف سعودی ذرائع ابلاغ کی یلغار اور آل سعود کی وزارت داخلہ کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کا یا موقف درحقیقت سیاسی دیوالیہ پن کا اعتراف اور مسائل حل کرنے کے لئے منطقی روش اپنانے سے فرار کی کوشش ہے۔
منطقۃالشرقیہ کے اس نامور شیعہ عالم دین اور دینی راہنما نے سعودی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں گھٹن کے ماحول کے خاتمے کے لئے تعمیری حکمت عملی اپناتے ہوئے موجودہ بحران کا خاتمہ کریں اور وزارت داخلہ کے اہلکاروں نیز ذرہئع ابلاغ کو اشتعال انگیز بیانات دینے سے روک لیں۔
انھوں نے کہا: شیعہ راہنما اس سے قبل حکومت کو ضروری نصیحتیں کرچکے ہیں اور موجودہ بحران کے حل کے لئے ضروری تجاویز دے چکے ہیں لیکن اس ملک میں کوئی بھی کان سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔
الشبیب نے کہا: سعودی عرب کا مسئلہ سیاسی ہے اور گوکہ بعض لوگ اس کو سیکورٹی کا مسئلہ بنا کر پیش کررہے ہیں لیکن یہ سیکورٹی کا مسئلہ نہيں ہے۔ ہمارے سرکاری فریق نے بہت بڑی بڑی غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے۔
انھوں نے آل سعود کی طرف سے شیعیان اہل بیت (ع) پر "فرقہ واریت پھیلانے" کا الزام لگائے جانے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا: بعض لوگ اہل تشیع پر مسلسل الزامات لگا رہے ہیں لیکن حال ہی میں دارالحکومت ریاض میں "اہل سنت کو درپیش شیعہ عقائد کے خطرات" کے عنوان سے ایک اجلاس ہوا اور اس میں جو دعوے کئے گئے اور جو فیصلے ہوئے وہ سعودی عرب کے اندر بھی اور علاقے کے دوسرے ممالک میں بھی فرقہ واریت کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں جبکہ فرقہ واریت امت کے لئے نقصان دہ اور زہر قاتل اور دشمنان اسلام کے مفاد میں ہے۔
انھوں نے سوال اٹھایا: کون ہے جو اس قسم کے اجلاسوں کے انعقاد کی اجازت دے رہا ہے جس میں سعودی عرب کے معاشرے ایک اہم حصے پر حملے کئے جاتے ہیں؟
ادھر سعودی قلمکار "خالد النزر" نے سعودی ذرائع ابلاغ میں شیخ الصفار پر لگائے گئے الزامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شیخ الصفار سعودی عرب کے معتدل شیعہ راہنما ہیں۔
النزر نے لکھا ہے کہ سعودی روزنامے کبھی بھی سرکاری اہلکاروں اور حکام پر تنقید نہیں کرتے اور جب کوئی ان پر تنقید کرتا ہے کہ یہ سارے مل کر اس کو اپنی تشہیراتی یلغار کا نشانہ بناتے ہیں۔

.........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛
آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ