ابنا: علی اصغر سلطانیہ نے جو خود بھی ان مذاکرات میں شریک تھے مزید کہا کہ مذاکرات کے اس دور میں ایران اور آئی اے ای اے کے تعاون کے بارے میں بات چیت کی گئي۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کے نائب ہرمن ناکارتس کی سربراہی میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کا اعلی رتبہ وفد پیر کے روز تہران پہنچا تھا۔ تقریبا تین ہفتے قبل بھی ہرمن ناکارتس کی سربراہی میں آئی اے ای اے کے اعلی رتبہ وفد نے تہران میں ایرانی حکام سے مذاکرات کیے تھے اور دونوں فریقوں نے مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس دوران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے بھی ایک بیان میں مذاکرات کے دوسرے دور کے خاتمے کا اعلان کیا ہے لیکن اس بیان میں کہا گيا ہے کہ ایران نے ایجنسی کے وفد کو تہران کے مشرق میں واقع پارچین کے فوجی علاقے کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے پاس رکن ممالک کے روایتی میزائلوں اور ہتھیاروں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کی کوئي ذمہ داری نہیں ہے اور اس کا نہ تو عالمی ایجنسی کے منشور میں ذکر ہے اور نہ ہی این پی ٹی معاہدے میں یہ بات موجود ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ عالمی ایجنسی صرف رکن ملکوں کی ایٹمی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہے اور اسے صرف ان تنصیبات کی نگرانی کرنی چاہیے کہ جہاں ایٹمی مواد لایا جاتا ہے یا وہاں سے لے جایا جاتا ہے۔ ایران کے بارے میں ایجنسی کا دعوی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے نہ کہ یہ ایک فنی اور قانونی بحث ہے اور اس دباؤ اور پروپیگنڈے کا مقصد یہ ہے کہ ایران گھٹنے ٹیک دے۔ درحقیقت گزشتہ سال نومبر میں پیش کی گئی یوکیا امانو کی رپورٹ ان دعووں کی تکرار ہے کہ جو چند سال قبل بےبنیاد ثبوت و اطلاعات کی بنیاد پر آئی اے ای اے کے سیکرٹریٹ میں پیش کی گئی جبکہ یہ مبینہ ثبوت ایجنسی کو بھی فراہم نہیں کیے گئے حتی کہ محمد البرادعی نے اس ایجنسی کی سربراہی کے اپنے دور میں ایران کے بارے میں ان دعووں کی تائید نہیں کی تھی۔ایسی فضا میں یہ امکان بدستور موجود ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی پر پڑنے والا سیاسی دباؤ کہ جس میں ایجنسی کے فرائض و ذمہ داریوں سے بالاتر مطالبات کیے گئے ہیں، مذاکرات کی فضا کو زیادہ سخت بنا دے۔بہرحال ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی ذمہ داریاں اور فرائض واضح اور معین ہیں جو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سیاسی اور مخاصمانہ اہداف و مقاصد سے دور رہ کر ایجنسی ان پر عمل کرے اور تعاون کے لیے تعمیری مذاکرات جاری رہنا ایجنسی کی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کی عکاسی کر سکتا ہے۔ .......
/169