18 فروری 2012 - 20:30

مصر کی بعض شخصیات اور تنظیموں نے اپنے ملک کے عوام سے امریکہ کی مالی امداد پر انحصار کے خاتمے کی جو اپیل کی تھی مصر میں اس کا وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔

ابنا: مصری عوام کے مختلف طبقات اور سرکاری اداروں اور تنظیموں میں کام کرنے والے افراد اور ملازمین نے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور اس سلسلے میں مدد فراہم کرنے پر اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ الازہر یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی مصر کے قومی اقتصاد کی حمایت کے لۓ ایک خصوصی فنڈ کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔

مصری کی متعدد کمپنیوں ، سرمایہ داروں اور بہت سے ملازمین اور مزدورں نے بھی امریکہ پر مالیاتی انحصار کے خاتمے کے لۓ اپنی آمدنی اور تنخواہوں کا کچھ حصہ قومی اقتصاد کی حمایت سے متعلق فنڈ میں جمع کرانے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے مصر کو دی جانے والی سالانہ مالی امداد بند کۓ جانے کی دھمکی کے بعد مصر کی بعض شخصیات اور اداروں کی جانب سے اس ملک کے عوام کو امریکہ پر مالیاتی انحصار کے خاتمے دعوت دی گئی تھی۔

مصر میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں قاہرہ اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوۓ ہیں۔ مصر کا موقف ہے کہ اس ملک میں سول سوسائٹی کی دسیوں غیر ملکی تنظمیں قائم ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں۔ اور مصر کے مختلف شہروں میں ان کی بہت زیادہ ذیلی تنظیمیں بھی قائم ہیں جنہوں نے بغیر اجازت لۓ اپنے کام کا آغاز کیا ہے اس لۓ یہ سب غیر قانونی ہیں۔ یہ تنظیمیں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ان کے قیام کا مقصد مصر کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔ اس وقت مصر کی عدالت میں ان غیر قانونی تنظیموں کی سرگرمیوں کے خلاف کیس دائر کیا گيا ہے۔ اس کیس میں تینتالیس افراد کو ملزم نامزد کیا گيا ہے۔ جن میں سے انیس امریکی شہری ہیں۔ اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں۔

واشنگٹن نے مصری حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ ان امریکی ملزمین کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کردے اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے مصر کی حکومت کو دھمکی بھی دی ہے کہ وہ مصر کو اپنی سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کی مالی امداد بند کردے گا۔ امریکہ سالانہ ایک ارب تیس کروڑ ڈالرکی فوجی اور پچیس کروڑ کی اقتصادی امداد مصر کو دیتا ہے۔

اخوان المسلمین نے کہا ہے کہ چونکہ امریکہ کی جانب سے مصر کو دی جانے والی امداد قاہرہ اور صہیونی ریاست کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کیمپ ڈیوڈ کا حصہ ہے اس لۓ واشنگٹن کی جانب سے اس امداد کا بند کیا جانا اس سارے سمجھوتے پر نظر ثانی کے مترادف ہوگا۔ اس موقف سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ مصر ، امریکہ اور صہیونی ریاست کے لۓ کس حد تک اہم ہے۔

در حقیقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کا ہر اقدام قاہرہ اور صہیونی ریاست کے تعلقات پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ مصر اور اسرائيل کے تعلقات کا خاتمہ یا کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر نظرثانی مصر کے حکام سے اس ملک کے انقلابیوں اور عوام کا اہم ترین مطالبہ ہے۔ اس مسئلے کے مدنظر بہت سے سیاسی حلقے واشنگٹن اور قاہرہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کی نوعیت کو امریکہ کے ساتھ جدید مصر کے مستقبل کے تعلقات نیز تل ابیب کے ساتھ قاہرہ کے تعلقات کو پرکھنے کی کسوٹی قرار دے رہے ہیں۔ ........

/169